Entertainment
نک جونس کی بیٹی کی اپنے والد کے ڈزنی کیریئر میں دلچسپی
مشہور گلوکار نک جونس کی بیٹی نے اب اپنے والد کے ابتدائی دور کے ڈزنی پروجیکٹس کو دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ یہ انکشاف 'کیمپ راک 3' کی افواہوں کے درمیان سامنے آیا ہے جس نے مداحوں میں تجسس پیدا کر دیا ہے۔
مشہور امریکی گلوکار اور اداکار نک جونس کے مداحوں کے لیے ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے، جہاں ان کی بیٹی نے اپنے والد کے ابتدائی فنی کیریئر اور ڈزنی کے سنہری دور کو باقاعدہ طور پر دریافت کرنا شروع کر دیا ہے۔ نک جونس جو کبھی 'کیمپ راک' جیسی بلاک بسٹر فلموں کے ذریعے دنیا بھر کے بچوں اور نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بنے تھے، اب اپنی بیٹی کو بھی اپنے اس شاندار ماضی سے روشناس کرا رہے ہیں۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب نک جونس نے اپنی بیٹی کے ردعمل کے بارے میں بات کی جو اب ان کے پرانے ڈزنی پروجیکٹس کو بڑے شوق سے دیکھ رہی ہے۔
اس پیش رفت نے سوشل میڈیا پر 'کیمپ راک 3' کی افواہوں کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ کافی عرصے سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ جونس برادرز اپنی اس مشہور فرنچائز کو دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ اب تک کسی باضابطہ پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن نک جونس کی جانب سے اپنی بیٹی کی ڈزنی فلموں میں دلچسپی ظاہر کرنے سے مداحوں کو یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید وہ اپنے والد کو دوبارہ اس کردار میں دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔
نک جونس نے اپنے ایک انٹرویو کے دوران اس بات کا ذکر کیا کہ کس طرح نئی نسل اب ان کے ابتدائی کام کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک باپ کے لیے یہ دیکھنا بہت خوشگوار ہے کہ ان کا کام وقت کی حدود سے بالاتر ہو کر ان کی اگلی نسل کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ موسیقی کے ساتھ ساتھ اداکاری کی دنیا میں نک جونس کی یہ خدمات آج بھی ان کے مداحوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں اور 'کیمپ راک' کے کردار 'شین گرے' کی واپسی کا مطالبہ ہمیشہ سے ہی ہالی وڈ کے حلقوں میں سنا جاتا رہا ہے۔
مستقبل قریب میں کیا نک جونس واقعی کسی نئے ڈزنی پروجیکٹ کا حصہ بنیں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن فی الحال ان کی بیٹی کی یہ دریافت یقیناً جونس برادرز کے مداحوں کے لیے ایک خوشگوار لمحہ ہے۔ نک جونس کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ڈزنی سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بعد ازاں عالمی سطح پر ایک بڑی شناخت بنائی۔ ان کی زندگی کا یہ سفر بہت سے نوجوان فنکاروں کے لیے ایک مثال ہے اور اب یہ سفر ان کی اگلی نسل تک پہنچ چکا ہے۔