LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے مواد پر وارننگ لیبل لازمی قرار

News Image
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شناخت کو یقینی بنانے کے لیے دنیا بھر میں نئے ضابطے متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ان قوانین کے تحت اے آئی کی مدد سے بننے والی تصاویر، ویڈیوز اور تحریروں پر واضح انتباہی لیبلز لگانا لازم ہوگا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحانات اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اب حکومتوں اور ریگولیٹری اداروں نے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے ضابطوں کے تحت اب ہر اس مواد پر انتباہی لیبلز لگانا لازمی ہوگا جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہو۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عام صارفین کو جعلی معلومات، ڈیپ فیکس اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے محفوظ رکھنا ہے جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اے آئی ٹولز کی دستیابی اتنی عام ہو گئی ہے کہ اصلی اور نقلی مواد میں تمیز کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے، جس سے معاشرتی اور سیاسی سطح پر سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئے اصولوں کے نافذ ہونے سے ڈیجیٹل میڈیا پر بھروسے کی فضا بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ سوشل میڈیا کمپنیوں اور اے آئی ماڈلز تیار کرنے والے اداروں کو پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر ایسے واٹر مارکس یا لیبلز کا استعمال کریں جو پہلی نظر میں ہی صارفین کو بتا سکیں کہ یہ مواد انسان کا نہیں بلکہ کسی کمپیوٹر پروگرام یا الگورتھم کا تخلیق کردہ ہے۔ اس سے نہ صرف جعلی خبروں کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی بلکہ کاپی رائٹ کے مسائل کو سلجھانے میں بھی مدد ملے گی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان قوانین پر عمل درآمد کرانا ایک بڑا چیلنج ہوگا، تاہم ڈیجیٹل سکیورٹی اور شفافیت کے لیے یہ ایک انتہائی ضروری اور خوش آئند قدم ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید بین الاقوامی معاہدے اور معیارات طے کیے جانے کا امکان ہے تاکہ سرحد پار ڈیجیٹل مواد کو بھی ضابطے میں لایا جا سکے اور انٹرنیٹ کو ایک محفوظ ترین مقام بنایا جا سکے۔