Technology
اے آئی کے ذریعے 24 گھنٹے ملازمت کے انٹرویوز کا رجحان
آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی پلیٹ فارمز کی بدولت اب امیدوار رات گئے بھی اپنے انٹرویو دینے کے اہل ہو گئے ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایک چوتھائی انٹرویوز رات 10 بجے سے صبح 2 بجے کے درمیان منعقد کیے جا رہے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) نے جہاں دیگر شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں اب ملازمت کے حصول کے روایتی طریقہ کار کو بھی یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، ملازمت کے لیے انٹرویو دینے والے امیدواروں کے لیے اب دفتری اوقات کی قید ختم ہو رہی ہے، کیونکہ کمپنیاں وائس اے آئی پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت اب انٹرویو لینے اور دینے کا عمل 24 گھنٹے جاری رہ سکتا ہے، جس سے نہ صرف امیدواروں کو سہولت ملی ہے بلکہ کمپنیوں کے لیے بھرتی کا عمل بھی تیز تر ہو گیا ہے۔
'ربن اے آئی' (Ribbon AI) نامی ریکروٹنگ پلیٹ فارم نے اپنے ڈیٹا کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ذریعے لیے جانے والے انٹرویوز میں سے تقریباً ایک چوتھائی انٹرویوز رات 10 بجے سے صبح 2 بجے کے درمیان منعقد کیے جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امیدوار اب ایسے وقت میں انٹرویو دینا پسند کر رہے ہیں جب وہ اپنے روزمرہ کے دفتری کاموں سے فارغ ہوتے ہیں یا کسی پرسکون ماحول میں خود کو انٹرویو کے لیے بہتر طور پر تیار محسوس کرتے ہیں۔ اے آئی پر مبنی یہ ٹیکنالوجی امیدوار کی آواز کو سمجھ کر ان کے جوابات کا تجزیہ کرتی ہے، جس سے انسانی مداخلت کے بغیر ہی ابتدائی جانچ مکمل ہو جاتی ہے۔
اس پیش رفت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ امیدواروں کو اب انٹرویو کے لیے اپنی موجودہ ملازمت سے چھٹی لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جہاں پہلے انٹرویو کا وقت دفتری اوقات تک محدود تھا، اب اے آئی روبوٹ یا سسٹم ہر وقت دستیاب رہتا ہے۔ یہ سسٹم نہ صرف امیدواروں کی سہولت کے لیے ہے بلکہ ریکروٹرز کے لیے بھی وقت کی بچت کا باعث بن رہا ہے۔ کمپنیاں اب رات گئے ہونے والے انٹرویوز کے ڈیٹا کو اگلے دن صبح جائزہ کے لیے تیار پاتی ہیں، جس سے بھرتی کا عمل کئی دنوں سے گھٹ کر چند گھنٹوں تک محدود ہو گیا ہے۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی انٹرویوز نے سہولت میں اضافہ کیا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر انسانی تعامل کا متبادل نہیں سمجھا جا سکتا۔ بھرتی کے عمل میں اے آئی کا کردار ابتدائی اسکریننگ تک محدود رہے تو زیادہ بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ مستقبل قریب میں جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی مزید بہتر ہوگی، امکان ہے کہ ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے انٹرویو کے عمل میں مزید لچک پیدا ہوگی، جس سے ورک کلچر اور بھرتی کے معیارات میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔