Business
نجکاری اور ڈس انویسٹمنٹ میں فرق: ایک تفصیلی جائزہ
حکومتِ وقت سرکاری اداروں میں اپنے حصص کم کرنے کے لیے مختلف مالیاتی طریقہ کار استعمال کرتی ہے جن میں نجکاری، اسٹریٹجک سیل اور او ایف ایس شامل ہیں۔ یہ مضمون ان اصطلاحات کے مابین موجود باریک فرق اور ان کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
حالیہ برسوں میں حکومتوں کی جانب سے سرکاری ملکیتی اداروں میں اپنے حصص کم کرنے یا انہیں نجی شعبے کے حوالے کرنے کی حکمت عملی میں تیزی آئی ہے۔ ایل آئی سی (LIC) کے حصص کی فروخت سے لے کر ایئر انڈیا کی نجکاری تک، مختلف طریقہ کار استعمال کیے گئے ہیں۔ عام آدمی کے لیے ان اصطلاحات کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے، لیکن معاشی نقطہ نظر سے ان کا مطلب اور نتائج ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ڈس انویسٹمنٹ (Disinvestment) سے مراد حکومت کا سرکاری کمپنیوں میں اپنے ملکیتی حصص کو فروخت کرنا ہے۔ اس کا مقصد بجٹ خسارے کو پورا کرنا، عوامی فنڈز کو سماجی شعبوں میں خرچ کرنا یا ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ جب حکومت ڈس انویسٹمنٹ کرتی ہے تو وہ اپنے حصے کا کچھ حصہ مارکیٹ میں عوام یا سرمایہ کاروں کو فروخت کر دیتی ہے، تاہم کمپنی کا انتظام اکثر حکومت کے پاس ہی رہتا ہے۔
اس کے برعکس 'اسٹریٹجک سیل' (Strategic Sale) ایک گہرا عمل ہے جس میں حکومت نہ صرف اپنے حصص فروخت کرتی ہے بلکہ کمپنی کا کنٹرول اور انتظامی اختیارات بھی نجی خریدار کو منتقل کر دیتی ہے۔ ایئر انڈیا کی منتقلی اسی عمل کی ایک بہترین مثال ہے۔ اسٹریٹجک سیل کا مقصد نقصان میں چلنے والے اداروں کو ایسی نجی انتظامیہ کے حوالے کرنا ہوتا ہے جو ان کی افادیت کو بڑھانے اور جدید خطوط پر چلانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ اس عمل میں حکومت کا اثر و رسوخ ختم ہو جاتا ہے اور ادارہ مکمل طور پر ایک نجی کمپنی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
ایک اور اہم اصطلاح 'آفر فار سیل' (OFS) ہے، جو کہ ایک شفاف طریقہ کار ہے جس کے ذریعے حکومت اسٹاک مارکیٹ کے پلیٹ فارم پر اپنے شیئرز عام سرمایہ کاروں کو فروخت کرتی ہے۔ یہ عمل خاص طور پر ان بڑی کمپنیوں کے لیے موزوں ہے جو پہلے سے اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہوتی ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں حصص کی دستیابی کو بڑھانا اور سرکاری اثاثوں کے لیے شفاف قیمت کا تعین کرنا ہے۔
حتمی طور پر، نجکاری (Privatisation) ایک وسیع اصطلاح ہے جس میں اسٹریٹجک سیل اور دیگر تمام طریقے شامل ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے حکومت اپنا کنٹرول یا حصہ نجی شعبے کو منتقل کرتی ہے۔ ان تمام اقدامات کا مقصد ملکی معیشت کو متحرک کرنا، سرکاری خزانے پر بوجھ کم کرنا اور نجی سرمایہ کاری کے ذریعے اداروں کو منافع بخش بنانا ہے۔ ان حکمت عملیوں کے ذریعے حکومت جہاں ایک طرف ریونیو حاصل کرتی ہے، وہیں دوسری طرف ان اداروں میں پیشہ ورانہ مہارتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے انضمام کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔