LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر انتخابات: باغ اور حویلی میں نتائج التوا کا شکار

News Image
آزاد کشمیر کے اضلاع باغ اور حویلی میں انتخابی نتائج کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور تنازعات کے بعد روک دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ہنگامہ آرائی کے پیش نظر 23 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا حکم جاری کر دیا ہے۔
آزاد کشمیر میں جاری انتخابی عمل کے تیسرے اور آخری مرحلے کے دوران اضلاع باغ اور حویلی میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ان حلقوں کے نتائج جاری کرنے سے روک دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق انتخابی عمل کے دوران متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم، ہنگامہ آرائی اور بدانتظامی کے واقعات پیش آئے، جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن آف آزاد جموں و کشمیر کو فوری مداخلت کرنا پڑی۔ حکام کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان کے مطابق، دونوں اضلاع سے موصول ہونے والی شکایات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔ خاص طور پر 23 پولنگ اسٹیشنوں پر ہونے والی ہنگامہ آرائی اور پولنگ کے عمل میں رکاوٹ کے بعد کمیشن نے وہاں دوبارہ پولنگ کروانے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔ ان حلقوں میں امیدواروں اور ان کے حامیوں کی جانب سے ووٹوں کی گنتی میں بے قاعدگیوں کے الزامات لگائے گئے تھے، جس کے بعد امیدواروں نے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ جب تک تمام تنازعات حل نہیں ہو جاتے اور دوبارہ پولنگ کا عمل مکمل نہیں ہوتا، حتمی نتائج کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ اس انتخابی عمل کو گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں اور سیاسی کشیدگی کا سامنا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور عوامی ایکشن کمیٹیوں کی جانب سے بائیکاٹ کی کالز کے باوجود پولنگ کے عمل کو مکمل کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سیکورٹی خدشات اور پرتشدد واقعات نے انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اب انتخابی حکام کی توجہ ان متنازعہ پولنگ اسٹیشنوں پر ہے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ دوبارہ پولنگ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ عوام کی جانب سے انتخابی نتائج میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ قانون کی بالادستی یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی صورت میں کسی کو بھی انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں جبکہ سیاسی رہنماؤں سے بھی پرامن رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔