LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے صوبے یا مقامی حکومتیں: سیاسی جماعتوں کا مؤقف

News Image
پاکستان کی اہم سیاسی جماعتوں کا ماننا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے بجائے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط کرنا زیادہ ضروری ہے۔ یہ رائے گورننس کے بحران اور آئینی پیچیدگیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے سیاسی بحث کا مرکز رہا ہے، تاہم حالیہ سیاسی و سماجی جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اہم سیاسی جماعتیں اب نئے صوبے بنانے کے بجائے مقامی حکومتوں کے نظام کو زیادہ مضبوط اور بااختیار بنانے کے حق میں نظر آتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں گورننس کی ناکامیوں کی اصل وجہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا نہ ہونا ہے۔ سیاسی قیادت کا خیال ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اگر نچلی سطح پر بلدیاتی ادارے فعال ہوں تو عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔ اس معاملے پر بحث کرتے ہوئے مختلف ماہرینِ آئین اور سیاست دانوں نے نشاندہی کی ہے کہ اگرچہ آئینِ پاکستان نئے صوبوں کے قیام کا ایک واضح طریقہ کار فراہم کرتا ہے، لیکن اس کے لیے درکار سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سمیت کئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تقسیم سے زیادہ اہم یہ ہے کہ موجودہ ڈھانچے کے اندر عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جائیں۔ بلدیاتی نظام کی مضبوطی سے نہ صرف جمہوریت کی جڑیں مستحکم ہوں گی بلکہ وسائل کی تقسیم بھی منصفانہ طریقے سے ممکن ہو سکے گی۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماضی میں صوبوں کی تقسیم کے مطالبات محض سیاسی نعروں تک محدود رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں گورننس کا بحران صرف وفاقی یا صوبائی سطح پر نہیں بلکہ ضلعی اور یونین کونسل کی سطح پر ہے۔ ایک مضبوط مقامی حکومت کا نظام، جس کے پاس مالی اور انتظامی اختیارات ہوں، ملک کے انتظامی مسائل کا دیرپا حل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی کا وعدہ پورا کریں تو نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت خود بخود کم ہو جائے گی۔ آخر میں، پاکستان میں گورننس کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈے کی ضرورت ہے۔ سیاسی جماعتوں کا یہ بڑھتا ہوا رجحان کہ وہ مقامی حکومتوں کو فوقیت دے رہی ہیں، ایک مثبت پیشرفت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ سیاسی اتفاق رائے محض بیانات تک محدود رہتا ہے یا اس پر عملی اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے تاکہ عام آدمی کی زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔