Business
بھارتی زرعی برآمدات کا بحران: عالمی منڈیوں میں بھارتی مصنوعات کیوں روکی جا رہی ہیں
بھارت سے برآمد کی جانے والی زرعی مصنوعات پر کئی ممالک کی جانب سے سخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ ٹوکیو، بیجنگ اور یورپی یونین کی جانب سے اشیاء کی درآمد پر پابندیاں اور جانچ پڑتال کے بعد بھارتی کاشتکار تشویش میں مبتلا ہیں۔
بھارت کی زرعی مصنوعات کو حالیہ عرصے میں بین الاقوامی منڈیوں میں سخت چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے بعد کئی ممالک نے بھارتی برآمدات پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے ان کی درآمدات کو محدود یا بلاک کر دیا ہے۔ ٹوکیو کی جانب سے بھارتی آموں کی واپسی، بیجنگ کی طرف سے چاول کی کھیپوں پر پابندی اور یورپی یونین کے انسپکٹرز کی جانب سے مصالحہ جات کے معیار پر سوالات اٹھائے جانے کے بعد بھارتی کاشتکاروں اور برآمد کنندگان میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ صورتحال بھارت کی زرعی معیشت اور عالمی منڈی میں اس کی ساکھ کے لیے ایک بڑا امتحان بن گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ان پابندیوں کی بنیادی وجہ مصنوعات میں پائے جانے والے کیمیائی اجزاء، کیڑے مار ادویات کی مقررہ حد سے زیادہ مقدار اور حفظان صحت کے بین الاقوامی معیارات کی عدم پیروی ہے۔ جاپان، جو کہ اپنی سخت کوالٹی کنٹرول پالیسیوں کے لیے جانا جاتا ہے، نے بھارتی آموں میں ایسی کیمیائی باقیات کی نشاندہی کی ہے جو ان کے فوڈ سیفٹی قوانین کے منافی ہیں۔ اسی طرح چین نے بھی بھارتی چاول کی کوالٹی اور اس میں پائے جانے والے ممکنہ جراثیموں کا بہانہ بنا کر درآمدات روک دی ہیں، جس سے بھارتی تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین نے بھی بھارتی مصالحہ جات کی سخت جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ ان مصنوعات میں ای تھیلین آکسائیڈ جیسے ممنوعہ کیمیکلز کی موجودگی بتائی گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف برآمد کنندگان کے لیے مالی نقصان کا باعث بن رہی ہے بلکہ بھارتی حکومت کی جانب سے زرعی پیداوار کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اختیار کردہ حکمت عملیوں پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔ کاشتکار تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ حکومت عالمی معیارات کے مطابق لیبارٹریز قائم کرے اور کسانوں کو جدید طریقہ کاشت کی تربیت دے تاکہ بھارتی مصنوعات کو عالمی منڈی میں دوبارہ اعتماد حاصل ہو سکے۔
اس بحران سے نکلنے کے لیے بھارتی حکام اب عالمی ضوابط کے مطابق اپنی زرعی سپلائی چین کو بہتر بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ اگر بھارت نے وقت پر اپنی کوالٹی کنٹرول پالیسیوں میں اصلاحات نہ کیں، تو اسے دیگر اہم عالمی منڈیوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ فی الحال، برآمد کنندگان حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سفارتی سطح پر ان مسائل کو حل کیا جائے تاکہ بھارتی کسانوں کی محنت ضائع نہ ہو اور برآمدات کا تسلسل بحال رہ سکے۔