World
ترکیہ دورہ: ڈونلڈ ٹرمپ کا سیکیورٹی کے پیش نظر طیارہ تبدیل کرنے کا واقعہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے ترکیہ میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر خفیہ طور پر اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا۔ ٹرمپ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ایران کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد ان کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ ترکیہ کے دورے کے دوران انہوں نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتہائی خفیہ انداز میں اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ٹرمپ کو ایئر فورس ون سے ایک فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا، جس کے لیے کیٹرنگ ٹرک کا غیر معمولی سہارا لیا گیا۔ یہ تمام تر کارروائی ایران کی جانب سے ممکنہ قاتلانہ حملے کی دھمکیوں کے بعد عمل میں لائی گئی تھی، جسے وائٹ ہاؤس نے کافی عرصے تک صیغہ راز میں رکھا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیکرٹ سروس کی ہدایات پر مبنی تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی حفاظت کے معاملات میں مکمل طور پر سیکیورٹی ایجنسی اور فوج کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، انہوں نے اس معاملے پر بہت زیادہ سوالات نہیں اٹھائے کیونکہ انہیں اکثر دھمکیاں ملتی رہتی ہیں اور وہ سیکیورٹی حکام کے طے کردہ پروٹوکول کے پابند ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ تشویش بھی ظاہر کی کہ جس متبادل طیارے میں وہ سفر کر رہے تھے، وہ زیادہ خطرے کی زد میں ہو سکتا تھا کیونکہ حملہ آوروں کی توجہ اسی جہاز پر مرکوز ہو سکتی تھی۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر کیٹرنگ ٹرک میں ٹرمپ کے مبینہ طور پر چھپنے کے مناظر پر مبنی میمز بھی گردش کرتی رہیں، جس پر ٹرمپ نے اپنی شبیہ کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ وہ صرف سیکیورٹی ہدایات کی پیروی کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ اس دورے کے دوران قطر کا عطیہ کردہ نیا طیارہ استعمال کر رہے تھے، تاہم واپسی کے سفر کے لیے اچانک پرانے ایئر فورس ون کے استعمال نے سیکیورٹی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ یہ سفر ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب ایران کے ساتھ کشیدگی عروج پر تھی اور ترکیہ کی سرحدیں ایران سے متصل ہونے کے باعث سیکیورٹی کے انتظامات کو انتہائی حساس سمجھا جا رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کی خفیہ منتقلی صدر کی حفاظت کے لیے ایک معیاری لیکن انتہائی پیچیدہ آپریشن ہوتا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس واقعے کے حوالے سے کسی بھی براہ راست تصدیق سے گریز کیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قدم ٹرمپ کو ممکنہ خطرے سے دور رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ یہ واقعہ نہ صرف صدارتی سیکیورٹی کے سخت پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اہم شخصیات کی نقل و حرکت کے چیلنجز کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔