World
عالمی سطح پر نوجوانوں کی بے روزگاری میں اضافہ، اقوام متحدہ کی تشویشناک رپورٹ
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں معاشی عدم استحکام اور عالمی منڈیوں میں ملازمتوں کے مواقعوں کی کمی کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال دنیا بھر میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جو کہ عالمی معیشت اور مستقبل کے افرادی قوت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا کے کئی خطوں میں معاشی سست روی اور صنعتی ترقی کی رفتار میں کمی کے باعث نوجوانوں کے لیے ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے کا عمل سست پڑ گیا ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور مایوسی کا باعث بن رہی ہے، جو بالواسطہ طور پر معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بے روزگاری کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر ممالک میں نظر آیا ہے جہاں آبادی میں اضافے کے تناسب سے ملازمتیں تخلیق کرنے کے وسائل محدود ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی سطح پر معاشی اصلاحات اور ہنر مند نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے برسوں میں یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور مصنوعی ذہانت کے دور میں روایتی ملازمتوں کے کم ہونے سے بھی نوجوانوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ ان کے پاس نئے دور کے تقاضوں کے مطابق مہارتوں کی کمی پائی جاتی ہے۔
ادارے نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جو نوجوانوں کو تکنیکی مہارتیں سکھانے اور انہیں عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوں۔ اس کے علاوہ، تعلیمی اداروں اور صنعتی شعبے کے درمیان خلیج کو کم کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ تعلیمی ڈگریوں کے ساتھ ساتھ عملی تجربہ بھی نوجوانوں کی دسترس میں ہو۔ اقوام متحدہ نے اپنی سفارشات میں اس بات پر زور دیا ہے کہ نوجوانوں کو معاشی دھارے میں شامل کرنا ہی کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے اور اس حوالے سے غفلت مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔