LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پنشن کا نیا نظام متعارف، سرکاری ملازمین کی پنشن میں بڑی تبدیلیاں

News Image
حکومت پاکستان نے سرکاری ملازمین کے لیے پنشن کے نئے نظام کو باقاعدہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملکی خزانے پر پنشن کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنا اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
پاکستان میں سرکاری شعبے کے ملازمین کے لیے پنشن کے نئے نظام کا باقاعدہ نفاذ کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ملکی معیشت پر پنشن کی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنا اور پنشن کے نظام کو طویل مدتی بنیادوں پر مستحکم بنانا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، پنشن کے موجودہ نظام میں کئی برسوں سے مالیاتی نقائص موجود تھے، جس کی وجہ سے قومی بجٹ کا ایک بڑا حصہ پنشن کی مد میں مختص کرنا پڑتا تھا، اب نئی پالیسی کے تحت ان معاملات کو منظم کیا جا رہا ہے۔ نئے نظام کے نفاذ کے بعد پنشن کی رقم کے تعین اور ادائیگی کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلیاں لائی گئی ہیں۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات حکومت کے مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کے تحت پنشن کی گرانٹس میں اضافے کو ایک مخصوص حد تک محدود کیا جائے گا۔ اس نئے نظام کا اطلاق ان ملازمین پر ہو گا جو مستقبل میں ریٹائر ہوں گے، جبکہ موجودہ پنشنرز کے لیے بھی مخصوص قواعد و ضوابط میں تبدیلی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے پر ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف حکومتی عہدیدار اس اقدام کو معاشی بہتری کے لیے ناگزیر قرار دے رہے ہیں، وہیں سرکاری ملازمین کی تنظیمیں اسے پنشن کے حقوق میں کٹوتی قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ پنشن کا نیا نظام بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے تاکہ پنشن کے فنڈز کو شفاف اور پائیدار بنایا جا سکے۔ مستقبل میں اس نظام کے نفاذ سے قومی خزانے پر پنشن کے بوجھ میں بتدریج کمی متوقع ہے، جس سے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں اور دیگر عوامی فلاحی کاموں کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے میں مدد ملے گی۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس نئے نظام کے حوالے سے ملازمین کے تحفظات دور کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں رہے گی تاکہ کسی بھی قسم کی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔