World
پرنس ایڈورڈ کے بیٹے کی نئی ملازمت کی تفصیلات
برطانوی شاہی خاندان کے رکن جیمز، ارل آف ویسیکس نے اپنی تعلیم کے بعد ایک نجی کمپنی میں موسم گرما کی ملازمت اختیار کر لی ہے۔ جیمز کی جانب سے یہ اقدام شاہی روایات سے ہٹ کر ایک عام نوجوان کی زندگی گزارنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے رکن اور ڈیوک آف ایڈنبرا پرنس ایڈورڈ کے صاحبزادے جیمز، جو ارل آف ویسیکس کے لقب سے جانے جاتے ہیں، نے اپنے اے لیولز کے امتحانات مکمل کرنے کے بعد ایک غیر روایتی راستہ اختیار کرتے ہوئے سمر جاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیمز، جو ملکہ الزبتھ دوم کے پوتے ہیں، نے اس موسم گرما میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ کام کرنے کا آغاز کیا ہے۔ شاہی خاندان کے نوجوان ارکان کی جانب سے اس طرح کے اقدامات کو عوامی حلقوں میں کافی سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ شاہی روایات سے ہٹ کر ایک عام نوجوان کی طرح زندگی گزارنے اور تجربہ حاصل کرنے کی ایک عمدہ مثال ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جیمز نے یہ ملازمت اس وقت اختیار کی ہے جب وہ اپنی تعلیمی مصروفیات سے فارغ ہو چکے ہیں۔ شاہی خاندان میں عام طور پر نوجوانوں کی جانب سے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کرنے کا طریقہ کار کافی محدود ہوتا ہے، تاہم جیمز کا یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شاہی خاندان اب بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق اپنے بچوں کو عملی زندگی کے تجربات فراہم کرنے کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ یہ ملازمت نہ صرف انہیں عملی دنیا کے اصولوں کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ ان کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی شاہی خاندان کے کئی نوجوان ارکان اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مختلف شعبوں میں کام کر چکے ہیں، تاہم جیمز کا یہ انتخاب اس لیے بھی دلچسپ ہے کیونکہ وہ ابھی اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں ہیں اور مستقبل کے تعلیمی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ملازمتیں شاہی خاندان کے ارکان کو عام شہریوں کے مسائل اور کام کرنے کے ماحول سے آگاہی فراہم کرتی ہیں، جو مستقبل میں ان کی عوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتی ہیں۔
شاہی محل کی جانب سے اس خبر پر کوئی باضابطہ تبصرہ تو نہیں کیا گیا، لیکن قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ جیمز اپنے اس نئے تجربے سے کافی خوش ہیں اور کام کے دوران وہ ایک عام ملازم کی طرح ہی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ برطانوی عوام نے سوشل میڈیا پر جیمز کے اس اقدام کی تعریف کی ہے اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔ جیمز کے اس فیصلے کو برطانیہ میں نوجوان نسل کے لیے ایک اچھی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ کس طرح ایک شاہی پس منظر رکھنے کے باوجود عملی مہارتیں سیکھنا ضروری ہے۔