LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا علی کیس: والد کا پولیس پر قتل کو خودکشی ثابت کرنے کا الزام

News Image
میر رضا علی کے والد نے پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کے بیٹے کے قتل کو خودکشی ظاہر کرنے کے لیے مقتول کے دوستوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے حکام بالا سے واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
میر رضا علی کے والد نے پولیس کی تفتیشی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پولیس حکام ان کے بیٹے کے قتل کے واقعے کو خودکشی قرار دینے کے لیے مقتول کے دوستوں پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تفتیشی افسران حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اصل مجرموں کو بچایا جا سکے۔ والد کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران ہی ایسے شواہد موجود تھے جو قتل کی جانب اشارہ کرتے ہیں، تاہم پولیس جان بوجھ کر تفتیش کا رخ موڑ رہی ہے۔ متاثرہ والد کے مطابق، پولیس کی جانب سے مقتول کے قریبی دوستوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں اس بات پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ بیانات بدل دیں اور واقعے کو ایک خودکشی کا واقعہ قرار دے دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے انصاف کے تقاضے پورے ہونے کے بجائے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو شواہد کو مٹا دیا جائے گا اور ان کے بیٹے کو کبھی انصاف نہیں مل سکے گا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور ایک غیر جانبدار تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیں۔ اس معاملے پر عوامی حلقوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر انصاف کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی پولیس کے اس مبینہ رویے کو قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔ والد نے واضح کیا کہ وہ آخری دم تک اپنے بیٹے کے لیے لڑیں گے اور تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اصل قاتل قانون کے کٹہرے میں نہیں لائے جاتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پولیس کے اعلیٰ حکام اس شکایت کا نوٹس لیتے ہیں یا یہ کیس بھی دیگر پینڈنگ کیسز کی طرح دبا دیا جاتا ہے۔