Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹ کا حال
آبنائے ہرمز کے معاملے پر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں فی الحال مستحکم دیکھی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب ایشیا کی مختلف اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کی وجہ سے ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں منگل کے روز مستحکم رہیں، جس کی بنیادی وجہ گزشتہ روز ہونے والا پانچ فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ استحکام اس وقت دیکھا جا رہا ہے جب دنیا بھر میں اس حوالے سے گہری تشویش پائی جاتی ہے کہ آبنائے ہرمز کو کب تک دوبارہ مکمل طور پر کھولا جائے گا، جس سے عالمی سپلائی چین کی بحالی ممکن ہو سکے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہ راست عالمی توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
دریں اثنا، ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں منگل کے روز ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آئے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور عالمی معاشی صورتحال کے پیش نظر محتاط رویہ اپنایا گیا ہے۔ جہاں کچھ مارکیٹوں میں معمولی بہتری کے آثار نمایاں ہوئے، وہیں دیگر اہم معاشی مراکز میں شیئرز کی قیمتوں میں دباؤ برقرار رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی غیر یقینی اور توانائی کے شعبے میں جاری ہلچل نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے۔
تکنیکی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد حل نہیں ہوتی تو توانائی کے شعبے میں مزید مہنگائی دیکھنے میں آ سکتی ہے، جس کے اثرات براہ راست افراط زر اور پیداواری لاگت پر پڑیں گے۔ ایشیائی ممالک، جو کہ تیل کی درآمد کے لیے بڑی حد تک ان آبی گزرگاہوں پر انحصار کرتے ہیں، اس وقت خاصی تشویش میں مبتلا ہیں۔ سرمایہ کار اب مرکزی بینکوں کے آئندہ فیصلوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی کے منتظر ہیں تاکہ عالمی منڈیوں میں ایک بار پھر استحکام کی فضا قائم ہو سکے۔
مستقبل کے حوالے سے مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں خام تیل کی طلب اور رسد کا توازن ہی قیمتوں کا تعین کرے گا۔ اگر سپلائی چین بحال ہوتی ہے تو قیمتوں میں کمی کا امکان ہے، تاہم موجودہ سیاسی تناؤ کے ہوتے ہوئے کسی بھی قسم کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ تجارتی حلقے اب بین الاقوامی حکام کے بیانات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ دنیا کے اس اہم تجارتی راستے کو کب تک مکمل طور پر محفوظ قرار دیا جائے گا۔