LIVE
Loading Breaking News...

بینکاری کے شعبے میں اے آئی کا استعمال: آر بی آئی کا اہم انتباہ

News Image
ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا نے مالیاتی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی خدمات کو جدید بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری بڑھائیں۔ انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ اے آئی کے وسیع تر استعمال کے ساتھ ڈیٹا پرائیویسی اور سائبر سکیورٹی کے چیلنجز بھی جڑے ہوئے ہیں۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر سنجے ملہوترا نے حال ہی میں ملک کے تمام مالیاتی اداروں اور بینکنگ سیکٹر پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کسٹمر سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) میں اپنی سرمایہ کاری کی رفتار کو تیز کریں۔ ایک حالیہ اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے عالمی مالیاتی منظرنامے میں تکنیکی جدت طرازی نہ صرف بینکوں کی ضرورت ہے بلکہ یہ مسابقت میں زندہ رہنے کے لیے ناگزیر بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو ادارے ٹیکنالوجی کے اس سفر میں پیچھے رہ جائیں گے، ان کے لیے مستقبل میں اپنے آپریشنز کو فعال رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ سنجے ملہوترا نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال بینکوں کو ڈیٹا کے تجزیے، فراڈ کا پتہ لگانے اور کسٹمرز کے ساتھ رابطے کے عمل کو تیز تر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے وسیع تر پھیلاؤ کے ساتھ ہی کچھ اہم خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خاص طور پر متعصبانہ فیصلوں اور الگورتھمز کے غیر شفاف ہونے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا، جو کسی بھی بینکنگ فیصلے کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مزید برآں، گورنر آر بی آئی نے ڈیٹا پرائیویسی اور سائبر سکیورٹی کو سب سے اہم ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے مالیاتی نظام میں اے آئی کا عمل دخل بڑھے گا، ویسے ہی سائبر حملوں کے خطرات بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ اے آئی سسٹم اپنانے کے دوران ایک مضبوط سکیورٹی فریم ورک مرتب کریں تاکہ کسٹمرز کا اعتماد برقرار رہے۔ مالیاتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی اور سکیورٹی سے متعلق مسائل کا بھی ذمہ دارانہ حل نکالیں۔