LIVE
Loading Breaking News...

گراماڈو میں شہروں کا پہلا بین الاقوامی اجلاس منعقد

News Image
برازیل کے شہر گراماڈو میں فلم فیسٹیول کے موقع پر شہروں کے پہلے بین الاقوامی اجلاس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں میڈیلن، ریو ڈی جنیرو اور پورٹو الیگرے سمیت کئی اہم شہروں کے حکام شرکت کر رہے ہیں۔
برازیل کے مشہور گراماڈو فلم فیسٹیول کے سائے میں، دنیا بھر کے اہم شہروں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے 'شہروں کا پہلا بین الاقوامی اجلاس' منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ تقریب 12 سے 14 اگست تک گراماڈو فلم مارکیٹ کے احاطے میں جاری رہے گی، جس کا بنیادی مقصد مختلف ممالک کے بلدیاتی حکام کے درمیان ثقافتی اور انتظامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس اجلاس میں لاطینی امریکہ اور دیگر خطوں کے بڑے شہروں کے اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں، جن میں میڈیلن، ریو ڈی جنیرو، پورٹو الیگرے، ماریکا اور میزبان شہر گراماڈو شامل ہیں۔ اس کانفرنس کے انعقاد کا مقصد شہری انتظام، فلمی صنعت اور ثقافتی سیاحت کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنا ہے۔ شرکاء اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح فلم فیسٹیولز اور بین الاقوامی تقریبات کو شہروں کی معاشی ترقی اور بین الاقوامی برانڈنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میونسپل سطح کے یہ رہنما اپنے اپنے شہروں کے تجربات شیئر کر رہے ہیں تاکہ شہری مسائل کے حل اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے نئے طریقے وضع کیے جا سکیں۔ اس موقع پر مختلف شہروں کے درمیان 'سسٹر سٹیز' یا باہمی تعاون کے معاہدوں کے امکانات پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ فلم فیسٹیول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس نہ صرف ثقافتی تبادلے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر شہروں کے درمیان سفارت کاری کا ایک اہم ذریعہ بھی ثابت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، اس قسم کے اجتماعات سے مقامی حکومتوں کو ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر میڈیلن اور ریو ڈی جنیرو جیسے شہروں کی شمولیت اس ایونٹ کی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے، جو پہلے ہی اپنی منفرد شہری منصوبہ بندی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں۔ تین روزہ اس اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا بھی امکان ہے، جس میں مستقبل میں شہروں کے مابین تعاون اور پائیدار ترقی کے اہداف کا تعین کیا جائے گا۔ اس تقریب نے نہ صرف گراماڈو کو ایک اہم ثقافتی مرکز کے طور پر نمایاں کیا ہے بلکہ اسے عالمی شہری نیٹ ورکنگ کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی مستحکم کر دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس کی کامیابی کے بعد آئندہ برسوں میں اس نوعیت کے مزید بین الاقوامی فورمز کا انعقاد بھی اسی طرز پر کیا جائے گا۔