LIVE
Loading Breaking News...

الیکٹرک بسوں کے لیے جدید پینٹوگراف چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف

News Image
بھارت کی مرکزی حکومت ہائی کیپیسٹی الیکٹرک بسوں کے لیے پینٹوگراف بیسڈ فلیش چارجنگ سسٹم متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی سے بسوں کے چارج ہونے کا دورانیہ گھنٹوں سے کم ہو کر صرف چند منٹ رہ جائے گا۔
مرکزی حکومت نے ہائی کیپیسٹی الیکٹرک بسوں کے لیے ایک جدید 'پینٹوگراف بیسڈ فلیش چارجنگ سسٹم' کے نفاذ کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں برقی گاڑیوں کی افادیت کو بڑھانا اور چارجنگ کے طویل دورانیے کے مسائل کو ختم کرنا ہے۔ فی الحال الیکٹرک بسوں کو چارج کرنے کے لیے کئی گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بسوں کی روزانہ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، تاہم نئی ٹیکنالوجی اس عمل کو انتہائی تیز بنا دے گی۔ نئے ماڈل کے تحت 18 میٹر طویل آرٹیکولیٹڈ بسوں (جو کہ بڑے شہروں میں زیادہ گنجائش کے حامل ہوتی ہیں) کے لیے خصوصی چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔ پینٹوگراف ایک ایسا برقی بازو ہے جو بس کی چھت پر نصب ہوتا ہے اور اسے بس اسٹاپ یا ٹرمینل پر موجود اوور ہیڈ چارجر سے جوڑ کر چند منٹوں میں بیٹریاں مکمل چارج کی جا سکیں گی۔ یہ 'فلیش چارجنگ' کا تصور خاص طور پر ان بس روٹس کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جہاں گاڑیوں کا مسلسل چلنا ضروری ہوتا ہے اور طویل وقفے کے لیے انہیں گراج میں کھڑا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سے نہ صرف بس آپریٹرز کے اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ مسافروں کو بھی بہتر اور بروقت سہولیات مل سکیں گی۔ یہ نظام خاص طور پر میٹرو شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ حکومت اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ماہرین سے مشاورت کر رہی ہے تاکہ اس کی لاگت اور کارکردگی کو ایک متوازن سطح پر لایا جا سکے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو اسے ملک بھر کے بڑے شہری مراکز میں وسیع پیمانے پر نافذ کیا جائے گا۔ اس اقدام کو حکومت کے 'گرین موبلٹی' وژن کے تحت ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے کاربن کے اخراج کو کم کرنے اور عوامی نقل و حمل کو زیادہ پائیدار بنانے میں مدد ملے گی۔ حکومت جلد ہی اس منصوبے کے لیے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کر سکتی ہے جس کے بعد اس کے نتائج کی بنیاد پر حتمی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔