Pakistan
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان سعودی عرب ترکی کے لیے اہم سنگ میل
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والے دفاعی معاہدے کو پاکستانی حلقوں میں خطے میں امن اور کامیابی کی علامت قرار دیا جا रहा ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد نیٹو کے آرٹیکل 5 کے مساوی ہے جو تمام رکن ممالک کے دفاع کو یقینی بناتا ہے۔
پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین حالیہ دنوں میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو پاکستانی عوام اور دفاعی ماہرین کی جانب سے خطے میں امن، استحکام اور فتح کا ایک بہت بڑا پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے نے بین الاقوامی سطح پر بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے، جہاں مبصرین اسے اسلامی دنیا کے تین اہم ترین ممالک کے مابین عسکری اور اسٹریٹجک تعاون کی سمت میں ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور ریڈیو پاکستان کی رپورٹس کے مطابق، اس معاہدے کو پاکستان میں انتہائی مثبت انداز میں سراہا گیا ہے اور اسے علاقائی سلامتی کے لیے ایک مضبوط ڈھال قرار دیا جا رہا ہے۔
ترک حکام اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دفاعی معاہدے کی تکنیکی نوعیت کافی حد تک نیٹو کے مشہور زمانہ آرٹیکل 5 جیسی ہے، جس کے تحت کسی بھی رکن ملک پر حملہ تمام اتحادی ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس اسٹریٹجک پوزیشننگ کی وجہ سے تینوںممالک کی عسکری صلاحیتیں اور دفاعی سکت یکجا ہو جاتی ہیں، جو کہ کسی بھی بیرونی خطرے کے خلاف ایک آہنی دیوار کا کام کرے گی۔ اس معاہدے کے بعد سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی سازوسامان کی مشترکہ تیاری، انٹیلی جنس شیئرنگ اور فوجی مشقوں میں بھی نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
عوام اور سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے دفاعی اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں اور ان سے کسی بھی قسم کی جنگی جنون کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ پاکستانی عوام نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے نہ صرف تینوں برادر اسلامی ممالک کے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے بلکہ مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں بھی بڑی مدد ملے گی۔ یہ معاہدہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان اور اس کے اتحادی علاقائی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار اور متحد ہیں۔