World
سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بریفنگ اور مغربی کنارے پر تشویش
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی ایک انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ عالمی رہنماؤں نے فوری اور عملی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ خطے میں جاری تنازع اور تشدد کے دائرہ کار کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کے دوران مشرق وسطیٰ کے امن عمل سے متعلق صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیشل کوآرڈینیتور رامیز الکبروف نے خطے میں جاری کشیدگی اور بڑھتے ہوئے تشدد کے حوالے سے کونسل کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر پاکستان اور یونیسف سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں حالات اب ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی انتہائی مشکل ہو سکتی ہے۔ اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ زمینی حقائق روز بروز سنگین ہوتے جا رہے ہیں اور عام شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
یونیسف کی ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر حنان سلیمان نے بھی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مغربی کنارے میں بچوں اور خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کا سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیکیورٹی بحران کی وجہ سے خطے کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو رہا ہے اور فوری طور پر امدادی کارروائیوں کو بلا تعطل جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں بھی اس بات پر اتفاق پایا گیا ہے کہ اگر اس تنازع کو فوری طور پر سفارتی ذرائع سے حل نہ کیا گیا تو یہ پورے خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
چین سمیت متعدد ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری اس دیرینہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ اور نتیجہ خیز کوششیں کریں۔ چینی نمائندوں کا کہنا تھا کہ پرامن مذاکرات ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت ہو سکتے ہیں اور اقوام متحدہ کو اس ضمن میں اپنا مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ دریں اثنا، مغربی کنارے کی بستیوں اور سیکیورٹی کی صورتحال پر مختلف ممالک کے درمیان بحث بھی جاری رہی جہاں کچھ رہنماؤں نے اپنے مؤقف کا دفاع کیا جب کہ اکثریت نے فوری جنگ بندی اور فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔