LIVE
Loading Breaking News...

وفاقی قرضے میں ریکارڈ اضافہ، کل حجم 83.6 ٹریلین روپے ہوگیا

News Image
پاکستان کا مرکزی حکومتی قرضہ مالی سال کے اختتام پر 83.6 ٹریلین روپے تک جا پہنچا ہے۔ وفاقی قرضے میں سالانہ بنیادوں پر 7.4 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان کا مرکزی حکومتی قرضہ مالی سال کے دوران بڑھ کر 83.6 ٹریلین روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اقتصادی اور مالیاتی رپورٹس کے مطابق حکومت کے ذمے کل قرض کے اسٹاک میں سالانہ بنیادوں پر 7.4 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ قرضوں کے اس بڑے حجم کی بنیادی وجوہات میں حکومتی اخراجات، مالیاتی خسارہ اور بڑھتے ہوئے قرضوں کی سروسنگ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال کے اختتام تک مرکزی حکومت کا کل قرضہ 83.6 ٹریلین روپے تک جا پہنچا، جس سے ملکی معیشت پر دباؤ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب مالیاتی اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ملک میں وسیع تر نوعیت کی سپلائی اور مانیٹری انڈیکیٹرز میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ایک ہفتے کے دوران ایم ٹو (M2) مانیٹری سپلائی میں 502 ارب روپے کا اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کہ نقد رو بہ گردش اور بینکنگ کے شعبے میں جاری مالی سرگرمیوں کا عکاس ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت کو اپنے مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور محصولات میں اضافے کے لیے مزید سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اس صورتحال میں مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی مانیٹری فنڈز کی پالیسیوں کا اثر بھی ملکی بجٹ اور قرضوں کی تشکیل پر براہ راست پڑ رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے معیشت کو استحکام دینے کے مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم مالی سال کے اختتامی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ قرضوں کا حجم ایک بڑا معاشی چیلنج بنا ہوا ہے جس سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اور پائیدار حکمت عملی ناگزیر ہے۔