LIVE
Loading Breaking News...

اریحا میں فلسطینی گھروں کی مسماری پر اسرائیلی حکومت پر شدید تنقید

News Image
مقبضہ مغربی کنارے کے علاقے اریحا میں اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے گھر مسمار کر دیے ہیں۔ اس کارروائی کے نتیجے میں مقامی فلسطینی خاندان بے گھر ہو گئے ہیں اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
مقبضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر اریحا کے قریب ایک فلسطینی گاؤں میں اسرائیلی آباد کاروں نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے رہائشی مکانات کو مسمار کر دیا ہے۔ اس پرتشدد اور اچانک کارروائی کے نتیجے میں متعدد فلسطینی خاندان اپنے سروں سے چھت محروم ہو گئے ہیں اور اب وہ کھلے آسمان تلے یا ملبے کے ڈھیر کے پاس رہنے پر مجبور ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی کے دوران علاقے میں شدید کشیدگی دیکھی گئی اور متاثرہ خاندانوں کو اپنے گھروں کا سامان نکالنے تک کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس دوران بھاری مشینری کا استعمال کیا گیا جس نے لمحوں میں رہائشی عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ اس ظالمانہ اقدام کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جنہیں اس کڑکتی سردی اور کٹھن حالات میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس واقعے کے بعد عالمی اور مقامی سطح پر اسرائیلی حکومت پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور مقامی رہنماؤں کا الزام ہے کہ اسرائیلی ریاست اور اس کے سکیورٹی ادارے اس قسم کی غیر قانونی کارروائیوں میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی سرپرستی یا خاموشی کے بغیر آباد کار اس پیمانے پر کارروائیاں کرنے کی جرات نہیں کر سکتے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور بین الاقوامی برادری نے فوری طور پر اس واقعے کا نوٹس لینے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہو گا اور پائیدار امن کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچے گا، جبکہ بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے مصائب دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔