World
غزہ میں جنگ اور آٹزم: تباہی اور مشکلات کا شکار بچے
غزہ میں جاری شدید بمباری نے آٹزم کا شکار بچوں کی روزمرہ زندگی اور معمولات کو یکسر تباہ کر دیا ہے۔ اس خوفناک صورتحال کے باعث ان بچوں میں حسیاتی صدمات اور رویے میں منفی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
غزہ میں جاری تباہ کن جنگ اور مسلسل بمباری نے جہاں ہر طبقے کے انسانوں کو متاثر کیا ہے، وہیں آٹزم کا شکار معصوم بچوں کے لیے زندگی انتہائی دشوار ہو گئی ہے۔ جنگی حالات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوفناک آوازیں اور ماحول ان بچوں کے لیے شدید ترین حسیاتی صدمات کا باعث بن رہا ہے، جو معمول کی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق آٹزم کے حامل بچوں کو ایک پرسکون اور طے شدہ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے، مگر موجودہ صورتحال نے ان کے تمام معمولات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔
مسلسل دھماکوں اور نقل مکانی کے اس عذاب نے ان بچوں میں رویے کے سنگین مسائل کو دوبارہ ابھار دیا ہے۔ وہ بچے جو طویل محنت کے بعد کچھ صلاحیتیں سیکھ چکے تھے، اب خوف کی لہروں کے باعث پیچھے ہٹ رہے ہیں اور شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ والدین کے لیے اپنے ان بچوں کو محفوظ رکھنا اور ان کی خصوصی ضروریات کا خیال رکھنا اس جنگ زدہ خطے میں ایک ناممکن کام بن چکا ہے جہاں بنیادی طبی سہولیات بھی ناپید ہو چکی ہیں۔
بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غزہ کے خصوصی بچوں کی اس ابتر حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جنگ کے نفسیاتی اثرات عام بچوں کے مقابلے میں آٹزم کے شکار بچوں پر زیادہ گہرے اور دیرپا ہوں گے، جن سے نکلنے کے لیے برسوں درکار ہوں گے۔ غزہ میں فوری جنگ بندی ہی ان معصوم جانوں کو مزید تباہی سے بچانے کا واحد ذریعہ ہے تاکہ انہیں ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے جہاں وہ دوبارہ اپنے معمول کی طرف لوٹ سکیں۔