LIVE
Loading Breaking News...

بحر احمر میں حوثی حملہ: تین پاکستانیوں کی شہادت پر پاکستان کا شدید ردعمل

News Image
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحرِ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثی حملے میں تین پاکستانی شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد واقعے کی مزید تفصیلات جاننے اور لاشوں کی وطن واپسی کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز بحرِ احمر میں ایک تجارتی جہاز پر یمن کے حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں تین پاکستانیوں سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ حملہ تنزانیہ کے پرچم والے جہاز 'تہامہ' پر کیا گیا جس کے نتیجے میں عملے کے ارکان میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں تصدیق کی کہ حملے میں تین پاکستانی شہریوں کے علاوہ ایک انڈونیشیائی شہری بھی جاں بحق ہوا ہے جبکہ ایک پاکستانی کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایسے حملے معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور بحرِ احمر میں تجارتی جہاز رانی کی سلامتی اور بحری سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس واقعے کی مزید تفصیلات اور حالات کا جائزہ لینے کے لیے سعودی عرب کے متعلقہ حکام اور یمن کی تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ وزیر خارجہ نے ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور شہدا کی لاشوں کی فوری واپسی اور زخمی پاکستانی شہری کو ہر ممکن طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں۔ واضح رہے کہ منگل کے روز بحرِ احمر اور خلیجِ عمان میں تین مختلف جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس سے خطے میں تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یمن کے کوسٹ گارڈ کے مطابق 'تہامہ' جہاز پر ہونے والے ابتدائی حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی اور شدید نقصان پہنچا، جس سے چار ملاح ہلاک ہوئے۔ جب ریسکیو ورکرز جہاز سے عملے کو نکالنے کی کارروائی کر رہے تھے تو اسی جہاز پر دوسرا حملہ بھی کیا گیا۔ دوسری جانب خلیجِ عمان میں پاناما کے پرچم والے کنٹینر جہاز کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان پہلے ہی بحرِ احمر میں اپنے بحری مفادات پر کسی بھی قسم کی جارحیت کو 'ریڈ لائن' قرار دے چکا ہے اور ملک اس پوری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔