LIVE
Loading Breaking News...

ایران، سعودی عرب اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات

News Image
ایران نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے معاملے پر سعودی عرب اور عمان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اہم ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کو سراہا ہے۔
تہران نے آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے سعودی عرب اور عمان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطے کیے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے سعودی اور عمانی ہم منصبوں کے ساتھ خطے کی موجودہ صورتحال اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ان مذاکرات کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور سمندری تجارت کے راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے ایک سینئر رکن نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز میں اپنے تمام جائز حقوق کا بھرپور تحفظ کرے گا اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسٹریٹجک اعتبار سے انتہائی اہم اس آبی گزرگاہ پر بین الاقوامی تجارت کا ایک بڑا حصہح منحصر ہے، جس کی وجہ سے خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں کی نظریں اس پیشرفت پر مرکوز ہیں۔ دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور دیگر فریقین کے درمیان ہونے والی اس بات چیت کو سراہتے ہوئے اسے 'اچھے مذاکرات' قرار دیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی اور حملوں کے باوجود پس پردہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ تاہم تہران کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ واشنگتن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے اس وقت تک کوئی سازگار حالات موجود نہیں ہیں جب تک امریکہ اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا۔ بین الاقوامی سیاسی مبصرین کے مطابق، سعودی عرب اور عمان کا اس عمل میں شامل ہونا خطے میں کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔