Technology
بایوس لائف کا پچیس ملین ڈالر فنڈنگ کے ساتھ کینسر سرگریننگ میں قدم
بایوس لائف نامی نئی کمپنی نے کینسر کی روایتی اسکریننگ کو جدید بنانے کے لیے پچیس ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ یہ کمپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی مسلسل نگرانی کے نظام کے ذریعے کینسر کے خلاف جنگ میں ایک نیا سنگ میل عبور کرنا چاہتی ہے۔
بائیو این ٹیک کے سابق اراکین پر مشتمل ایک نئی بائیو ٹیک کمپنی 'بایوس لائف' نے باضابطہ طور پر اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ کمپنی نے کینسر کی اسکریننگ اور نگرانی کے روایتی طریقوں کو تبدیل کرنے کے لیے پچیس ملین ڈالر کی خاطر خواہ فنڈنگ بھی حاصل کر لی ہے۔ بانیان کا ماننا ہے کہ کینسر کی تشخیص کا شعبہ طویل عرصے سے پرانی ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہا تھا جسے اب جدید خطوط پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
نئی حکمت عملی کے تحت بایوس لائف کا مقصد ایک ہی بار کی جانے والی اسکریننگ کو مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی مسلسل نگرانی کے نظام میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ جدید طریقہ کار نہ صرف کینسر کی بروقت تشخیص میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ مریضوں کے علاج کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے بھی ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ کمپنی کا عزم ہے کہ وہ جدید ڈیٹا اور اے آئی الگورتھمز کی مدد سے کینسر کے خلاف جنگ میں طبی ماہرین کو طاقتور ترین آلات فراہم کرے۔
اس اہم مشن کو مزید آگے بڑھانے کے لیے بایوس لائف نے 'ٹیمپوس' کے ساتھ ایک اسٹریٹجک ڈیٹا الائنس بھی قائم کیا ہے۔ اس تعاون سے کمپنی کو طبی اور جینیاتی ڈیٹا تک وسیع رسائی ملے گی، جو جدید اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شراکت داری سے کینسر کی نگرانی کے شعبے میں تحقیق کی رفتار تیز ہوگی اور آنے والے دنوں میں مریضوں کے لیے زیادہ مؤثر حل سامنے آئیں گے۔