LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا بحیرہ احمر میں حوثی حملے پر سخت ردعمل

News Image
پاکستان نے بحیرہ احمر میں ایک غیر جنگی تجارتی جہاز پر ہونے والے حوثی حملے کی شدید مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں سمیت قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان نے بحیرہ احمر میں ایک غیر جنگی تجارتی جہاز پر ہونے والے حوثی حملے کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کے جاں بحق ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے خطرسے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کئی افراد لقمہ اجل بنے ہیں جن میں پاکستان کے شہری بھی شامل ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی اور سویلین جہاز رانی پر حملوں کی مذمت کرتا ہے۔ عالمی پانیوں میں اس طرح کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین، بحری تجارت کے اصولوں اور انسانی ہمدردی کے منافی ہیں۔ پاکستان نے متاثرہ خاندانوں سے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ بحیرہ احمر میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر اس واقعے کے بعد بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں مشکلات بڑھ گئی ہیں اور ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے بات چیت میں بھی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی اور دیگر اتحادی افواج نے خطے میں صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے تاکہ تجارتی راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان کی حکومت نے متعلقہ سفارتی ذرائع کے ذریعے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سمندری حدود میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری تمام ریاستوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومتِ پاکستان اپنے شہریوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی قدم اٹھا رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔