Politics
مکہ معاہدہ اور وزیراعظم کا ردعمل - نیکسورا نیوز اردو
وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ حالیہ مکہ معاہدہ کسی بھی فریق کے خلاف کسی قسم کی جارحیت نہیں ہے۔ یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
وزیر اعظم نے حال ہی میں طے پانے والے مکہ معاہدے کے حوالے سے واضح بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی ملک یا فریق کے خلاف ہرگز کوئی جارحانہ اقدام نہیں ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال کے دوران اس معاہدے کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ہونے والے اس عزم میں باہمی دفاع اور سلامتی کے امور کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی میڈیا اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور سفارتی کوششوں کو فروغ دینے کی ایک اہم کڑی ہے۔ وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ایشیا میں امریکی اثر و رسوخ اور لیوریج میں مبینہ کمی کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی کے خلاف محاذ آرائی کرنا نہیں بلکہ خطے کے ممالک کا خود کو دفاعی لحاظ سے مستحکم کرنا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس عزم سے وابستہ ممالک کے پاس مشترکہ فوجی صلاحیتیں موجود ہیں جو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور دیگر شراکت داروں کا یہ مستقل مؤقف رہا ہے کہ تمام اقدامات خطے میں امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں اور ان کا مقصد کسی بھی قسم کے عسکری تنازع کو ہوا دینا نہیں ہے۔