World
پاکستان میں سیلاب اور بارشیں، 109 ہلاکتیں اور نئی وارننگ
پاکستان میں مون سون کی بارشوں، سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کے نتیجے میں اب تک 109 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکومت نے ممکنہ طور پر مزید بارشوں کی پیشگوئی کے بعد ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں اور مانسون کا نیا پلان متعارف کروا دیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسو را نیوز اردو) پاکستان بھر میں جاری مون سون کی تباہ کن بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف واقعات میں اب تک مجموعی طور پر 109 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے جہاں سیلابی ریلوں کے باعث شہریوں کو مجبوراً کشتیوں کے ذریعے اپنے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔ صوبائی اور وفاقی ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم نقصانات کا حجم بہت زیادہ ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات اور متعلقہ حکام نے ملک کے بیشتر حصوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ایک نیا مون سون تیاریوں کا پلان پیش کیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے ناگہانی حادثے سے نمٹا جا سکے۔ وفاقی اور صوبائی وزراء کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نبردآزما ہونے کے لیے انتظامی ڈھانچے کو مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔پنجاب سمیت ملک کے دیگر صوبوں کی حکومتوں نے بھی مون سون کی تیاریوں اور نکاسی آب کے مؤثر اقدامات پر زور دینا شروع کر دیا ہے۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے نشیبی علاقوں میں پانی کی فوری نکاسی اور دریاؤں کے کناروں پر قائم بستیوں کے انخلاء کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مربوط حکمت عملی کے تحت انتظامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں جانی و مالی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے تمام اداروں کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔