LIVE
Loading Breaking News...

روسی ریٹیل جائنٹ وائلڈ بیریز پر یوکرین کے حملے اور وجوہات

News Image
یوکرین نے روس کے اندر جنگ کے اثرات کو محسوس کرانے کے لیے مشہور ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کو نشانہ بنایا ہے۔ روس کی یہ بڑی ای کامرس کمپنی اس وقت سخت دباؤ اور حملوں کی زد میں ہے۔
روس کی سب سے بڑی ای کامرس اور ریٹیل کمپنی 'وائلڈ بیریز' کو حالیہ دنوں میں شدید حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کمپنی کو اکثر روس کا 'ایمیزون' بھی کہا جاتا ہے، جو روس بھر میں آن لائن شاپنگ اور ڈیلیوری کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک چلاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یوکرین کی جانب سے اس تجارتی اور کاروباری مرکز کو نشانہ بنانے کا بنیادی مقصد روس کے اندرونی علاقوں تک جنگ کے اثرات کو پہنچانا ہے تاکہ عام روسی شہریوں اور معیشت کو اس کا احساس ہو۔ حالیہ مہینوں میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع میں ایک نئی حکمت عملی دیکھنے میں آئی ہے جس کے تحت یوکرین نے روسی عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ اہم تجارتی اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو بھی اپنے اہداف میں شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ وائلڈ بیریز پر ہونے والے حملے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں، کیونکہ یہ کمپنی روسی معیشت اور سپلائی چین میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کمپنی کے گوداموں اور لاجسٹکس مراکز پر حملوں سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ یہ روسی حکام کے لیے بھی ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن گیا ہے۔ دوسری جانب، روسی حکام نے ان حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی کارروائیاں قرار دیا ہے۔ روسی وزارتِ دفاع اور سیکورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ یوکرین شہری اور تجارتی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ملک میں افراتفری پھیلائی جا سکے۔ تاہم، یوکرین کی جانب سے اس حکمت عملی کا مقصد ماسکو اور دیگر بڑے روسی شہروں میں جنگ کی حقیقت کو آشکار کرنا ہے، جو اب تک محاذ جنگ سے دور پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے حملے طویل المدتی بنیادوں پر روسی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ جب تک یہ تنازع جاری رہتا ہے، وائلڈ بیریز جیسی بڑی تجارتی کمپنیاں بدستور خطرے کی زد میں رہیں گی اور انہیں اپنی سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہوگی۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اب یہ جنگ محض سرحدی تنازع نہیں رہی بلکہ دونوں ملکوں کی معیشت اور تجارتی ڈھانچے تک پھیل چکی ہے۔