Pakistan
خیبر پختونخوا مانسون اور گلا ف الرٹ: ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
خیبر پختونخوا میں مون سون اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے خطرات کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو سو فیصد تیاری کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے چترال، اپر کوہستان اور سوات سمیت شمالی علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پشاور: پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا میں مون سون کی بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات (گلاف) کے پیش نظر انتظامیہ نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کی جانب سے صوبے بھر میں ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں مون سون کے دوران ہونے والے مختلف حوادث میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 107 تک پہنچ چکی ہے، جس کے بعد صوبائی حکومتیں انتہائی احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہیں۔ صوبائی محکمہ ریلیف اور پی ڈی ایم اے نے بالائی علاقوں میں خصوصی مانیٹرنگ شروع کر دی ہے۔ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز اور تحصیل کی سطح پر ہسپتالوں کو مکمل طور پر الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں اور زندگی بچانے والی ادویات کے ساتھ ساتھ سانپ کے کاٹنے کی ویکسین اور دیگر ضروری طبی سامان کا اضافی ذخیرہ فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب اور طوفانی بارشوں کے دوران طبی امداد کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ دوسری جانب، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے چترال، اپر کوہستان، سوات اور دیگر حساس شمالی اضلاع کے لیے گلاف (Glav) یعنی گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ ان علاقوں میں مقامی آبادی اور سیاحت سے وابستہ افراد کو دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس سال گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ تمام متعلقہ محکموں کو باہمی رابطے میں رہنے اور کسی بھی ہنگامی کال پر فوری رسپانس دینے کی تاکید کی گئی ہے۔