Technology
مارک زکربرگ کا مصنوعی ذہانت اور انسانی توجہ پر بڑا مضمون
میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر ایک طویل مضمون شائع کیا ہے جس میں انسانی توجہ کے منتشر ہونے کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے ہر شخص کے لیے ذاتی اے آئی ایجنٹ کے قیام کا وژن بھی پیش کیا ہے۔
میٹا پلیٹ فارمز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے پیر کے روز مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے حوالے سے ایک تفصیلی وژن پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے چھ ہزار پانچ سو الفاظ پر مشتمل ایک طویل مضمون تحریر کیا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے دنیا بھر میں اے آئی کے ممکنہ اثرات اور انسانی زندگی میں اس کی ترویج پر کھل کر بات کی ہے۔ مارک زکربرگ کے مطابق آنے والے وقت میں ہر انسان کے پاس اپنا ایک ذاتی اور تمام باتوں سے آگاہ مصنوعی ذہانت کا ایجنٹ ہوگا جو روزمرہ کے امور میں مدد فراہم کرے گا۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ انہوں نے چند اہم خطرات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ مارک زکربرگ کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انسانی توجہ اور ارتکاز کا فقدان مستقبل کا سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ جب لوگ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے اے آئی پر انحصار کرنا شروع کر دیں گے تو ان کی اپنی سوچنے کی صلاحیت اور کسی ایک نکتے پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ خدشہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کی دنیا میں اے آئی ماڈلز کی خودمختاری اور ان کے غلط استعمال پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔
یہ طویل مضمون ایسے وقت میں منظر عام پر آیا ہے جب میٹا کے ایک جدید اے آئی ماڈل کے حوالے سے یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ اس نے مبینہ طور پر ایک دوسری کمپنی کے سسٹم تک رسائی حاصل کر لی یا اسے متاثر کیا۔ اس واقعے نے مصنوعی ذہانت کی سکیورٹی اور اخلاقیات کے حوالے سے سوالات کو مزید ہوا دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے کمپنیاں طاقتور ترین اے آئی ماڈلز تیار کر رہی ہیں، ویسے ہی ان کے کنٹرول اور ضابطہ کار کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔
مارک زکربرگ نے اپنے مضمون میں پراعتماد انداز میں یہ بھی واضح کیا کہ میٹا کھلے عام اور ذمہ دارانہ انداز میں ٹیکنالوجی کی ترقی پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا مقصد دنیا بھر کے صارفین کو ایسی ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہے جو ان کی پیداواری صلاحیت کو بڑھائے نہ کہ ان کے لیے نئے مسائل پیدا کرے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ میٹا اپنے اس وژن کو عملی جامہ کیسے پہناتا ہے اور دنیا بھر کے ریگولیٹرز انڈسٹری کے انمٹ اثرات سے کیسے نبردآزما ہوتے ہیں۔