World
کورین جزیرہ نما میں ایٹمی آب دوزوں کی تیاری کی نئی دوڑ
کورین جزیرہ نما میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب دونوں حریف ممالک نے ایٹمی طاقت سے چلنے والی آب دوزیں تیار کرنے کا اعلان کیا۔ اس نئی دفاعی دوڑ کے دوران خطے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کورین جزیرہ نما میں ایک بار پھر عسکری کشیدگی میں اس وقت اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب روایتی طور پر ایک دوسرے کے حریف شمالی اور جنوبی کوریا نے ایٹمی توانائی سے چلنے والی آب دوزیں بنانے کے لیے ایک خطرناک دوڑ کا آغاز کر دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کی جانب سے اس نئے دفاعی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قانون سازی اور فنڈنگ کے معاملات کو تیزی سے حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس کا مقصد سمندری حدود میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے جدید بحری جہاز اور آب دوزیں طویل عرصے تک بغیر ایندھن بھرے پانی کے اندر رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو عسکری حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لا سکتی ہیں۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کے اندرونی سیاسی اور دفاعی حلقوں میں اس منصوبے کے حوالے سے کچھ قانونی اور سفارتی پیچیدگیاں بھی زیر بحث ہیں۔ کورین اخبارات کے مطابق حکومت نے ملک کے عدم پھیلاؤ کے عزم کو برقرار رکھنے کے لیے خصوصی اصول وضع کیے ہیں تاکہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کا تاثر نہ ابھرے۔ تاہم، شمالی کوریا کی جانب سے پہلے ہی سے اپنی سمندری اور زیرِ آب عسکری طاقت کو بڑھانے کے لیے جارحانہ اقدامات کیے جا रहे ہیں، جس نے سियोل حکومت کو اس دوڑ میں شامل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کی عسکری تیاریوں سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے اور پڑوسی ممالک کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد اب عالمی طاقتیں بالخصوص امریکہ، چین اور روس اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ کورین جزیرہ نما میں طاقت کا توازن بگڑنے سے عالمی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جوہری ایندھن سے چلنے والی آب دوزیں روایتی آب دوزوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک اور طاقتور ہوتی ہیں کیونکہ ان کا پتہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے عملی نفاذ سے خطے میں سرد جنگ جیسی صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے امن مذاکرات کے تمام دروازے مزید بند ہونے کا خدشہ ہے۔