LIVE
Loading Breaking News...

ایڈمرل رِک اوور 1957 تقریر توانائی کے وسائل اور مستقبل

News Image
سال 1957 میں ایڈمرل ہائیمن رِک اوور کی جانب سے دی گئی ایک دور اندیش تقریر میں توانائی کے وسائل اور انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے اہم انتباہات کیے گئے تھے۔ یہ تاریخی خطاب آج کے دور میں بھی توانائی کے بحران کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
سال 1957 میں امریکی نیوی کے ایڈمرل ہائیمن رِک اوور (Admiral Hyman Rickover) نے توانائی کے وسائل اور ہمارے مستقبل کے موضوع پر ایک انتہائی بصیرت افروز اور تاریخی خطاب کیا۔ اس زمانے میں جب دنیا صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن تھی اور وسائل کو لامحدود سمجھا جاتا تھا، رِک اوور نے خبردار کیا تھا کہ دنیا میں روایتی توانائی کے ذخائر بالآخر ختم ہو جائیں گے۔ ان کی یہ تقریر آج کے جدید دور میں بھی اتنی ہی متعلقہ ہے جتنی اس وقت تھی۔ رِک اوور نے اپنی اس تقریر میں اس بات پر زور دیا تھا کہ کوئلہ، تیل اور گیس جیسے فوسل فیول کرہ ارض پر ہمیشہ کے لیے موجود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے انسانیت کو متنبہ کیا تھا کہ جیسے جیسے آبادی بڑھے گی اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، توانائی کی کھپت میں بھی تیزی آئے گی۔ اگر اس وقت متبادل اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلوں کو شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا کو ماحولیاتی تبدیلیوں، گلوبل وارمنگ اور روایتی ایندھن کے اخراج کے نتائج کا سامنا ہے، ایڈمرل رِک اوور کی یہ پیشگوئی بالکل درست ثابت ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان اور ماہرین اب سولر، ونڈ اور دیگر صاف توانائی کے ذرائع کی طرف منتقل ہونے کی بات کر رہے ہیں تاکہ آنے والے بحرانوں سے بچا جا سکے۔ یہ تاریخی دستاویز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال اور مستقبل کی منصوبہ بندی کتنی ضروری ہے۔ ایڈمرل رِک اوور کا یہ خطاب آج کے پالیسی سازوں اور سائنسدانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ وہ توانائی کے پائیدار ذرائع تلاش کرنے کو اپنی ترجیح بنائیں تاکہ کرہ ارض اور انسانیت کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔