Business
آر بی آئی گورنر کا مصنوعی ذہانت پر اہم بیان اور بینکنگ کے مستقبل کی پالیسی
ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر نے کہا ہے کہ بینکوں کی مستقبل کی کامیابی کے لیے مصنوعی ذہانت کا درست استعمال انتہائی ضروری ہے۔ اے آئی کے ذریعے مالیاتی شمولیت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن لاپرواہی سے اس کا استعمال نئے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ موجودہ دہائی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) وہی بنیادی حیثیت رکھتی ہے جو گزشتہ دہائی میں ڈیجیٹائزیشن کی تھی۔ بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ مستقبل میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کے نفاذ اور اس کی تکنیکی باریکیوں کو مکمل طور پر سمجھیں۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کا یہ نیا دور بینکاری کے شعبے میں انقلاب برپا کر رہا ہے اور جو ادارے اس تبدیلی کو نہیں اپنائیں گے، وہ مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔
گورنر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے نہ صرف مالیاتی شمولیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ پہلے سے موجود پبلک گڈ پراجیکٹس کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ اے آئی کی مدد سے بینک اپنے صارفین کے لیے خدمات کو مزید آسان، تیز رفتار اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ یہ انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کا استعمال احتیاط کے بغیر کیا گیا، تو اس سے مالیاتی نظام میں عدم استحکام اور معاشرے کے بعض طبقات کے لیے نئی قسم کی اخراج یا محرومی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
اسی تناظر میں آر بی آئی کی جانب سے ایک جامع اور منظور شدہ مصنوعی ذہانت کا فریم ورک لانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے تاکہ بینکنگ سیکٹر میں اس ٹیکنالوجی کا ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ مرکزی بینک اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اے آئی کے تمام تر فوائد بلا امتیاز تمام شہریوں تک پہنچیں اور کسی بھی تکنیکی یا الگورتھمک غلطی کی وجہ سے عام صارفین کو نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس حکمت عملی کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے استفادہ کرنا اور ساتھ ہی ممکنہ مالیاتی خطرات سے بچاؤ کے لیے ایک مضبوط حفاظتی حصار قائم کرنا ہے۔