LIVE
Loading Breaking News...

ری سائیکلنگ انفراسٹرکچر اور پیکیجنگ ڈیزائن کا فرق

News Image
پیکیجنگ ڈیزائن میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں لیکن ضائع ہونے والے مواد کو ٹھکانے لگانے کا نظام اس رفتار سے ترقی نہیں کر پا رہا ہے۔ مینوفیکچررز نئی اور ماحول دوست پیکیجنگ لا رہے ہیں مگر ری سائیکلنگ کی سہولیات کی کمی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
جدید دور میں صنعتی پیکیجنگ ڈیزائن تو انتہائی تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے، لیکن اس کے برعکس دنیا بھر میں فضلہ کو ٹھکانے لگانے اور ری سائیکل کرنے کا نظام اس رفتار سے ترقی نہیں کر پا رہا ہے۔ پروڈیوسرز اب مونو مٹیریل ڈھانچے، لچکدار پلاسٹک اور کمپوسٹ ایبل متبادل کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں، تاکہ ماحول کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ اس ارتقا کا مقصد یہ ہے کہ ایسی مصنوعات تیار کی جائیں جو زیادہ پائیدار ہوں اور جن کا اثر کرہ ارض پر کم سے کم ہو۔ تاہم، اس تمام تر پیش رفت کے باوجود عملی میدان میں کئی سنگین مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ پیکیجنگ ڈیزائن اور موجودہ ری سائیکلنگ انفراسٹرکچر کے درمیان پایا جانے والا گہرا خلیج ہے۔ جب کمپنیاں نئی اقسام کا مواد مارکیٹ میں لاتی ہیں، تو ری سائیکلنگ پلانٹس اور پروسیسنگ یونٹس کے پاس اکثر ایسی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہوتی کہ وہ اس نئے مواد کو مؤثر طریقے سے الگ اور ری سائیکل کر سکیں۔ کمپوسٹ ایبل یا بایو ڈی گریڈیبل پلاسٹک بظاہر ماحول دوست دکھائی دیتے ہیں، لیکن اگر انہیں غلط طریقے سے روایتی پلاسٹک کے ساتھ ری سائیکلنگ بن میں پھینک دیا جائے، تو یہ پورے ری سائیکلنگ کے عمل کو خراب کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال نے انڈسٹری کے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ صرف ڈیزائن میں بہتری لانا کافی نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیداری کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے پروڈکشن اور ویسٹ مینجمنٹ دونوں شعبوں کو ایک ساتھ لے کر चलना ہوگا۔ اس کے لیے نہ صرف حکومتوں کو ری سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کرنی ہوگی، بلکہ مینوفیکچررز کو بھی ایسی پیکیجنگ بنانی ہوگی جو مقامی ری سائیکلنگ سسٹمز کے ساتھ مطابقت رکھتی ہو۔ جب تک پیکیجنگ ڈیزائنرز اور ویسٹ مینجمنٹ کے اداروں کے درمیان قریبی تعاون پیدا نہیں کیا جاتا، اس وقت تک اس مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنا ناممکن رہے گا، اور ماحول دوست پیکیجنگ کے دعوے کاغذ پر ہی محدود ہو کر رہ جائیں گے۔