World
ڈونلڈ ٹرمپ کا خفیہ طیارہ تبدیلی اور ایرانی خطرات
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ایران کی جانب سے ممکنہ سکیورٹی خطرات کے پیش نظر خفیہ طور پر طیارہ تبدیل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس اقدام نے ان سکیورٹی خدشات اور دھمکیوں کی سنگین نوعیت کو اجاگر کیا ہے جن کا انہیں سامنا ہے۔
واشنگٹن (نیکسورا نیوز) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حال ہی میں سامنے آنے والا یہ انکشاف کہ انہوں نے ایک خفیہ پرواز کے ذریعے اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا، ایران کی جانب سے مبینہ طور پر درپیش قاتلانہ خطرات کی انتہائی سنگین نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیٹو کے ایک اہم سربراہی اجلاس کے دوران اور اس کے بعد سکیورٹی خدشات اس حد تک بڑھ چکے تھے کہ انتہائی رازداری کے ساتھ روٹس اور طیارے دونوں کو تبدیل کرنا پڑا۔ یہ قدم اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اور سیکرٹ سروسز سابق صدر کی سلامتی کے معاملے میں کسی قسم کا کوئی خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں تھیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے اور گارجین کی رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے تُرکیہ کے راستے یا وہاں سے واپسی پر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ایک خفیہ پرواز کا انتخاب کیا۔ ابتدائی طور پر اس بات کو عوامی سطح پر صیغہ راز میں رکھا گیا تھا، تاہم بعد میں مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر اس معاملے کی تفصیلات سامنے آنے لگیں۔ سیکرٹ سروس کی ہدایات کے تحت اٹھائے جانے والے اس قدم میں ایک 'ڈیکாய்' یا فریب دینے والے حکمت عملی کے تحت مسافروں کو بھی استعمال کیا گیا، تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے یا حملے کے منصوبے کو ناکام بنایا جا سکے۔
واشنگٹن پوسٹ اور دیگر بین الاقوامی اخبارات کی رپورٹس میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس خفیہ پرواز کی تبدیلی اور اس کے طریقہ کار کو اب گہری جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ ناقدین اور ماہرینِ دفاع اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ خطرہ اتنا شدید تھا کہ روایتی پروٹوکول کے برعکس اتنے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور خفیہ تدابیر کی ضرورت پڑی۔ اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جس طیارے کو آخر کار استعمال کیا گیا، اس پر ممکنہ خطرات کا سایہ کم تھا جبکہ اصل خطرہ اس متبادل روٹ یا طیارے کو تھا جسے پروٹوکول کے طور پر پہلے ظاہر کیا گیا تھا۔
موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سابق امریکی صدر اور ان کے اردگرد موجود سکیورٹی حصار کے لیے بین الاقوامی سطح پر کشیدگی کتنی گہری اہمیت رکھتی ہے۔ ایرانی تالاب سے جڑے ان خطرات نے امریکی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، اور سکیورٹی ادارے مسلسل اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو آئندہ بھی ایسے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کون سے مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سابق صدر کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر سکیورٹی کے ایس او پیز میں مزید سختی لائی جا رہی ہے۔