LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی وزیر داخلہ کا تہران دورہ، مغربی ایشیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال

News Image
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے علاقائی سلامتی اور ثالثی کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے تہران کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔
اسلام آباد: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ نے تہران کا دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں نئی جان ڈالنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد خطے میں امن کے قیام کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور موجودہ بحران کے پرامن حل کی تلاش کے لیے سرگرم عمل ہے۔ دوسری جانب، تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدہ تعلقات اور تنازعات پر بھی بین الاقوامی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے مؤقف پر تاحال قائم ہے جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مطالبات اور شرائط کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس پس منظر میں پاکستانی حکام کا یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے یا مفاہمت کے حوالے سے کچھ پیشرفت کے اشارے بھی دیے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ سفارتی کوششیں خطے میں پائیدار امن کے قیام اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے دوران دونوں برادر ملکوں کے درمیان سکیورٹی تعاون، سرحدی انتظام اور خطے کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستان اور ایران کے مابین دیرینہ تعلقات ہیں اور موجودہ نازک موڑ پر تہران کا یہ دورہ دونوں دارالحکومتوں کے درمیان رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے ایرانی حکام کو پاکستان کے اس عزم سے آگاہ کیا کہ اسلام آباد خطے میں کسی بھی بڑی جنگ یا تصادم کا مخالف ہے اور تمام تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنے کا حامی ہے۔ خطے کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر مزید سرگرمیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں کیونکہ عالمی طاقتیں بھی مغربی ایشیا کی کشیدگی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پاکستان کا یہ سفارتی کردار اس بات کا مظہر ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور اس مقصد کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے تیار ہے۔ تہران اور دیگر دارالحکومتوں کے ساتھ ان رابطوں کے نتائج آنے والے ہفتوں میں خطے کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔