Business
امریکہ اور ایران جنگی کشیدگی میں کمی: تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ
امریکہ اور ایران کے مابین حملوں کا سلسلہ عارضی طور پر رکنے کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم، خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کے باعث ماہرین اب بھی سپلائی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے مابین حملوں کا عارضی طور پر رکنا بتائی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، دونوں ممالک کی جانب سے براہ راست فوجی کارروائیوں میں وقفے کے بعد تیل کی مارکیٹوں میں فوری طور پر کسی حد تک سکون کا سانس لیا گیا ہے، جس سے قیمتوں میں یہ گراوٹ واقع ہوئی۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ عارضی وقفے سے قیمتوں کو نیچے آنے میں مدد ملی ہے، لیکن مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ اس تنازع کے کسی بھی وقت دوبارہ شدت اختیار کرنے کے امکانات نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو تاحال فکرمند رکھا ہوا ہے۔ سپلائی چین کے حوالے سے خدشات اب بھی منڈی میں قیمتوں کو سہارا دے رہے ہیں اور کسی بھی بڑی قیمت کی مکمل گراوٹ کو روک رہے ہیں۔ مختلف معاشی جریدوں اور نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹوں میں بھی ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں جبکہ تیل اور ٹریژری ییلڈز میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی توانائی کی منڈیوں کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی یا عسکری کشیدگی کس سمت جاتی ہے۔ اگر صورتحال پرامن رہتی ہے تو قیمتیں مزید مستحکم ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں توانائی کے بحران کا خطرہ پھر سے سر اٹھا سکتا ہے۔