LIVE
Loading Breaking News...

کولمبیا زلزلہ: 180 افراد ہلاک، ریسکیو آپریشن جاری

News Image
کولمبیا میں آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 180 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ زلزلے سے بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا ہے اور طبی عملہ ہنگامی بنیادوں پر متاثرہ علاقوں میں خدمات انجام دے رہا ہے۔
کولمبیا میں آنے والے ایک انتہائی طاقتور زلزلے کے بعد تباہی کے مناظر سامنے آئے ہیں جہاں اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 180 سے تجاوز کر چکی ہے۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ متعدد رہائشی عمارتیں اور تعلیمی ادارے پلک جھپکتے ہی زمین بوس ہو گئے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکار اس مشکل گھڑی میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو بحفاظت نکالا جا سکے، جہاں سے معجزانہ طور پر چند بچوں اور افراد کو زندہ بھی نکالا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ریکٹر اسکیل پر اس زلزلے کی شدت کافی زیادہ ریکارڈ کی گئی جس کا مرکز ملک کے مغربی حصوں میں تھا۔ زلزلے کے فوری بعد مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، جس کی وجہ سے ابتدائی گھنٹوں میں امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فوج اور رضاکار تنظیموں نے بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے لیا ہے اور ہیوی مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جا سکیں۔ حکومت کی جانب سے ملک بھر کے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ بہت سے زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اور مختلف ممالک کے رہنماؤں نے کولمبیا میں ہونے والے اس جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سردی اور بارش کے باعث امدادی کاموں میں مزید رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں، لیکن ریسکیو ورکرز ہمت ہارے بغیر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے یا عارضی خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں جنہیں فوری طور پر خوراک، پینے کا صاف پانی اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل بحالی کے اس عمل میں طویل عرصہ درکار ہوگا کیونکہ بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔