LIVE
Loading Breaking News...

ملائشیا کا فاریسٹ سٹی: بھوت بنگلا بنے اپارٹمنٹس میں پولیس کا چھاپہ

News Image
ملائشیا کے ایک پرتعیش رہائشی منصوبے 'فاریسٹ سٹی' کو حال ہی میں پولیس نے ایک بڑے چھاپے کے بعد خبروں میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں مبینہ طور پر فراڈ اور اسکیم کی کارروائیاں چلائی جا رہی تھیں۔ اس پراجیکٹ کو کبھی ایک خواب کی طرح پیش کیا گیا تھا جو بعد میں سنسان علاقے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔
ملائشیا کا مشہور زمانہ رہائشی منصوبہ 'فاریسٹ سٹی' جو کبھی خریداروں کے لیے ایک پرتعیش جنت کے طور پر پیش کیا گیا تھا، ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں آ گیا ہے۔ ابتدا میں اس ساحلی پراجیکٹ کو بڑی دھوم دھام سے لانچ کیا گیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک ویران اور سنسان علاقے میں تبدیل ہو گیا جسے اکثر لوگ 'گھوسٹ سٹی' یا بھوتوں کا شہر بھی کہتے ہیں۔ اس ویرانی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر مجرمانہ عناصر اور فراڈ نیٹ ورکس نے یہاں اپنے اڈے بنانا شروع کر دیے۔ حالیہ پیش رفت کے دوران، ملائیشین پولیس نے اس سنسان رہائشی علاقے میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے چھاپہ مارا ہے۔ حکام کے مطابق، پولیس کو مصدقہ اطلاعات ملی تھیں کہ ان ویران اپارٹمنٹس کو اب غیر قانونی سرگرمیوں اور آن لائن اسکیمرز کے مراکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ چھاپے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف عمارتوں سے اہم شواہد اکٹھے کیے ہیں اور مبینہ طور پر اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ کی تعمیر کا مقصد ایک جدید اور باسہولت شہر بسانا تھا جہاں ہزاروں افراد رہائش پذیر ہو سکیں، مگر معاشی اور انتظامی مسائل کی وجہ سے یہ علاقہ زیادہ تر خالی ہی رہا۔ اتنے بڑے پیمانے پر بنے اپارٹمنٹس کا ویران رہنا مجرم عناصر کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہوا جنہوں نے خفیہ طور پر یہاں پناہ لی۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے اب اس پورے نیٹ ورک کی جڑیں کھنگال رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس پس پردہ کون سے بین الاقوامی گروہ متحرک تھے۔ اس واقعے کے بعد ملائشیا میں ہاؤسنگ پراجیکٹس کی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ملک کے دیگر ماند پڑ جانے والے یا سنسان پراجیکٹس جرائم پیشہ افراد کی آمازگاہ نہ بنیں۔ پولیس کی اس کارروائی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اس پورے اسکینڈل کے مزید حقائق جلد سامنے آئیں گے اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔