LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی ٹوکنز سستے ہونے کے باوجود کاروباری اخراجات کیوں بڑھ رہے ہیں

News Image
مصنوعی ذہانت کے ٹوکنز کی قیمتوں میں کمی کے باوجود کاروباری اداروں کے مجموعی اخراجات میں کمی نہیں آئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پیچیدہ سسٹمز، ڈیٹا مینجمنٹ اور انسانی نگرانی کے بڑھتے ہوئے تقاضے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ جیسے جیسے ٹوکنز کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، کمپنیوں کے لیے یہ ٹیکنالوجی سستی ہوتی چلی جائے گی۔ تاہم، حقیقت اس کے برعکس ہے اور کئی کاروباری اداروں کو اب بھی بھاری بھرکم بلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹوکن قیمتوں میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجموعی لاگت بھی کم ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کی ایک اہم وجہ ’ایجنٹک ورک فوز‘ کا فروغ ہے، جہاں اے آئی ماڈلز کو خودکار طریقے سے زیادہ پیچیدہ اور طویل کام سونپے جا رہے ہیں۔ یہ خودکار نظام ایک ہی وقت میں ہزاروں ٹوکنز کی کھپت کرتے ہیں، جس سے فی ٹوکن سستا ہونے کے باوجود مجموعی حجم اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اخراجات آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ کمپنیاں جب زیادہ خودکاری کی طرف جاتی ہیں تو ان کا استعمال کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ٹکنالوجی کے استعمال کے علاوہ ڈیٹا کی حفاظت، انفراسٹرکچر کی بہتری اور گورننس جیسے پوشیدہ اخراجات بھی انٹرپرائزز پر بڑا بوجھ بن رہے ہیں۔ اے آئی سسٹمز کو محفوظ بنانے اور ان کے نتائج کی درستی کو یقینی بنانے کے لیے ماہرین کی ٹیمیں درکار ہوتی ہیں جن کی تنخواہیں اور وسائل کے اخراجات کافی زیادہ ہیں۔ اس کے علاوہ کلاؤڈ اسٹوریج اور ہارڈ ویئر کی لاگت بھی اس مساوات کو متاثر کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کاروباری اداروں کی توجہ محض استعمال کی لاگت پر کم اور اس سے حاصل ہونے والے کاروباری منافع (ROI) پر زیادہ مرکوز ہو چکی ہے۔ کمپنیاں یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا اے آئی پر ہونے والا یہ بڑا خرچہ واقعی ان کی پیداوریت اور منافع میں خاطر خواہ اضافہ کر رہا ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس رجحان سے مزید تبدیلیاں متوقع ہیں۔