Technology
لیزر وائرلیس چارجنگ ٹیکنالوجی سے ڈرونز کی بیٹری کا مسئلہ حل
محققین نے ایک ایسی نئی لیزر وائرلیس چارجنگ ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو ڈرونز کو فضا میں غیر معینہ مدت تک برقرار رکھ سکتی ہے۔ اس بہتر شدہ ریسیور کی کارکردگی 38.49 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو حرارتی انتظام کے لیے نینوک্রسٹل لائن مٹیریل استعمال کرتا ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے لیزر وائرلیس چارجنگ کے نظام میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈرونز کو فضا میں غیر معینہ مدت تک باآسانی برقرار رکھا جا سکتا ہے کیونکہ انہیں بار بار چارجنگ کے لیے نیچے اتارنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ ڈرونز کے لیے چارجنگ کے وقت کو کم یا مکمل طور پر ختم کرنا طویل عرصے سے محققین کی اولین ترجیح رہا ہے، اور حالیہ برسوں میں اس حوالے سے کئی اہم تجربات بھی کیے گئے ہیں۔
نئے نظام میں استعمال ہونے والا بہتر شدہ ریسیور اب 38.49 فیصد کی شاندار کارکردگی کے ساتھ توانائی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس ٹیکنالوجی میں حرارتی انتظام یعنی تھرمل مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لیے خاص طور پر نینوک্রسٹل لائن مٹیریل کا استعمال کیا گیا ہے، جو زیادہ درجہ حرارت میں بھی نظام کو مستحکم رکھتا ہے۔ اس اہم مادی بہتری کی وجہ سے لیزر بیمز کے ذریعے زیادہ مقدار میں توانائی کو بغیر کسی نقصان کے مطلوبہ ڈرون تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے تجارتی پیمانے پر استعمال سے نہ صرف تجارتی ڈرونز بلکہ نگرانی اور دفاعی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بغیر پائلٹ کے طیاروں کی کارکردگی میں بھی انقلاب برپا ہو جائے گا۔ اب تک ڈرونز کی محدود بیٹری لائف ان کے طویل مشنز میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی تھی، لیکن لیزر پاور بیمنگ کے اس نئے طریقہ کار سے اس چیلنج پر قابو پانا ممکن ہو گیا ہے۔ مستقبل قریب میں اس ٹیکنالوجی کو مزید نکھار کر اسے روزمرہ کے فضائی آپریشنز کا حصہ بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔