Technology
ٹی ایس ایم سی اور سونی کی جاپان میں سیمی کنڈکٹر اور امیজ سینسر منصوبے پر سرمایہ کاری
تائیوان کی معروف چپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی اور سونی گروپ نے جاپان میں امیজ سینسرز کی تیاری کے لیے ایک بڑے مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس چار ارب نوے کروڑ ڈالر کے منصوبے کے تحت سال 2029 سے بڑے پیمانے پر پیداوار کا آغاز متوقع ہے۔
تائیوان کی دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی تائیوان سیمیکمڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی یعنی ٹی ایس ایم سی اور جاپان کے سونی گروپ نے ایک اہم مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ جاپان کے جنوبی حصے میں سیمی کنڈکٹر اور اگلی نسل کے امیজ سینسرز کی تیاری کے لیے تقریباً 4.7 ارب ڈالر (چار ارب انہتر کروڑ ڈالر) کی بھاری سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں۔ اس مشترکہ منصوبے کا بنیادی مقصد جدید ترین امیজ سینسرز کی تحقیق، ترقی اور پیداوار کو فروغ دینا ہے جو آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل امیجنگ اور کیمرہ ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔
اس نئے کاروباری اتحاد کے تحت سونی گروپ اس مشترکہ منصوبے میں کنٹرولنگ شیئر ہولڈر ہوگا، جو اس پورے پروجیکٹ کی سمت اور انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔ دونوں کمپنیوں کی جانب سے یہ قدم عالمی سطح پر چپ کی طلب میں اضافے اور خصوصاً اعلیٰ معیار کے سینسرز کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جاپان میں اس جدید سہولت کے قیام سے مقامی سطح پر تکنیکی ترقی کو نئی مہمیز ملے گی اور سپلائی چین کے مسائل کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
منصوبے کے تحت پلانٹ کی تعمیر اور تنصیب کے مراحل کو آنے والے چند سالوں میں مکمل کیا جائے گا جبکہ حتمی اور بڑے پیمانے پر پیداوار کا آغاز سال 2029 تک متوقع ہے۔ اس طویل المدتی منصوبے سے نہ صرف دونوں کمپنیوں کی تکنیکی صلاحیتیں مزید مضبوط ہوں گی بلکہ جاپان کی سیمی کنڈکٹر کی صنعت کو بھی عالمی سطح پر ایک نمایاں برتری حاصل ہوگی۔ سونی اور ٹی ایس ایم سی کی یہ شراکت داری جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔