Business
عالمی کشیدگی اور چینی اسٹاک مارکیٹ کا احوال
صدر ٹرمپ کے ایران سے تنازع کے متاثرین کے لیے معاوضے کے مطالبے کے بعد عالمی مارکیٹس میں محتاط فضا دیکھی جا رہی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات بڑھ گئے ہیں جس سے چینی اسٹاکس میں بھی کمی واقع ہوئی۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سیاسی و سفارتی کشیدگی کے براہ راست اثرات اب مالیاتی منڈیوں پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق چینی اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے کیونکہ سرمایہ کار عالمی سطح پر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ منڈی کے شرکاء کے مطابق، یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوئی جب امریکی صدر نے ایران سے تنازع کے متاثرین کے لیے باضابطہ طور پر معاوضے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب تہران نے بھی امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فضائی و عسکری کارروائیوں کے خلاف ہرجانے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کے آثار فی الحال معدوم نظر آتے ہیں۔ اس جاری محاذ آرائی اور سفارتی ڈیڈ لاک نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل خطے میں صورتحال کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کے تسلسل کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے جلد از جلد دوبارہ کھلنے اور تجارتی سرگرمیاں معمول پر آنے کی توقعات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیل کے راستوں میں شامل ہے، اور اس کے بارے میں پیدا ہونے والے خدشات براہ راست عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور ایشیائی منڈیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چینی سرمایہ کاروں نے کسی بھی بڑے مالیاتی رسک سے بچنے کے لیے محتاط حکمت عملی اپنائی ہے، جس کا نتیجہ شیئرز کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں نکلا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک واشنگتن اور تہران کے درمیان جاری لفظی جنگ اور کشیدگی میں کمی نہیں آتی، عالمی مالیاتی منڈیوں بالخصوص ایشیائی اسٹاک ایکسچینجز میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی کی یہ فضا برقرار رہنے کا قوی امکان ہے۔