World
باب المندب میں حوثی حملہ: بحری جہاز پر حملے میں چھ افراد ہلاک
یمنی حکومت کے مطابق بحیرہ احمر کے باب المندب کے قریب حوثی باغیوں کے حملے میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ ایک سال کے دوران بحیرہ احمر میں ہونے والا پہلا ہلاکت خیز حملہ ہے جس پر بین الاقوامی برادری کی جانب سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔
یمنی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے اہم اسٹریٹجک مقام باب المندب کے قریب بحری جہاز کو نشانہ بنانے والے حوثی حملے کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے میں بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر ہونے والا یہ پہلا ہلاکت خیز حملہ ہے، جس نے بین الاقوامی تجارت اور سلامتی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ تازہ کارروائی اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں ایرانی جنگی مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ امریکی فورسز نے ایک کنٹینر شپ پر ہونے والے حالیہ حملوں کے جواب میں کارروائیاں بھی کی ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے اس واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ اس سے بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں کا امن شدید خطرے میں پڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کے راستے دنیا کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی نہ صرف توانائی اور اشیائے خوردونوش کی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کا باعث بھی بنتی ہے۔ یمنی حکومت اور بین الاقوامی اتحادی قوتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ حوثیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اس سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ عالمی تجارت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔