LIVE
Loading Breaking News...

کراچی میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی امتیاز کے خاتمے کا مطالبہ

News Image
کراچی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران مقررین نے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خاتمے اور ملک بھر میں اقلیتوں کے مکمل تحفظ کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ اس موقع پر جبری تبدیلی مذہب کے رحجان کو روکنے اور مساوی شہریوں کے حقوق کی فراہمی پر بھی زور دیا گیا۔
کراچی میں حالیہ دنوں کے دوران سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنوں اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندوں کی جانب سے ایک اہم اجتماع منعقد کیا گیا جس میں معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک کے خاتمے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی گئی۔ تقریب کے شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین کے تحت تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور کسی بھی گروہ کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر ناانصافی یا تعصب برتنے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ مقررین نے اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا کہ بعض علاقوں میں اقلیتی برادریوں کے افراد کو سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے جن میں جبری تبدیلی مذہب کے واقعات سرفہرست ہیں۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس قبیح فعل کی روک تھام کے لیے سخت قانونی اقدامات کیے جائیں تاکہ اقلیتیں خود کو اس ملک میں محفوظ اور مطمئن محسوس کر سکیں۔ دوسری جانب، اس ضمن میں ملک کی اعلیٰ قیادت اور صوبائی حکام کی جانب سے بھی اقلیتوں کے کردار کو سراہا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اقلیتی برادریوں کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست ہر شہری کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ ادھر، وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ رواداری اور مذہبی ہم آہنگی سندھ کی مٹی اور دریائے سندھ کے پانیوں میں رچی بسی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں تمام مذاہب کے ماننے والے افراد کو یکساں مواقع اور تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ معاشرتی امن اور بھائی چارے کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ان بیانات اور مطالبات کے بعد اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عملی سطح پر ایسے موثر اقدامات کیے جائیں جن سے زمینی حقائق میں بہتری آ سکے اور اقلیتوں کے خلاف ہونے والے امتیازات کا مستقل قلع قمع کیا جا سکے۔