LIVE
Loading Breaking News...

وسکانسن انتخابات: ڈیموکریٹک پارٹی کے بائیں بازو کو شکست

News Image
امریکہ کی ریاست وسکانسن میں ہونے والے حالیہ انتخاب میں سینٹرسٹ ڈیوڈ کرولی نے ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار فرکا ہانگ کو شکست دے دی ہے۔ اس کامیابی نے ملک بھر میں بائیں بازو کے رہنماؤں کی مسلسل کامیابی کے حالیہ رجحان کو توڑ دیا ہے۔
امریکہ کی ریاست وسکانسن سے موصول ہونے والی سیاسی خبر کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی دھڑوں کی کشمکش میں سینٹرسٹ امیدوار نے بائیں بازو کے ترقی پسند ونگ کو شکست دے دی ہے۔ انتخابی نتائج کے تخمینے کے مطابق، اعتدال پسند خیالات کے حامل ڈیوڈ کرولی نے ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار فرکا ہانگ کو ہرایا ہے۔ اس انتخابی نتیجے کو امریکہ بھر میں کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے گزشتہ کچھ عرصے سے چلنے والے اس قومی رجحان کو بریک لگ گئی ہے جس میں بائیں بازو اور ترقی پسند سیاستدانوں کو مسلسل فتوحات مل رہی تھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ شکست ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بائیں بازو (Progressive Wing) کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو حالیہ برسوں میں پارٹی کے اندر اپنی پالیسیوں اور نظریات کی وجہ سے کافی اثر و رسوخ حاصل کر چکے تھے۔ فرکا ہانگ، جو کہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ کے طور پر جانی جاتی ہیں، اپنی انتخابی مہم میں بنیادی معاشی اور معاشرتی اصلاحات کی حامی تھیں، تاہم ووٹرز نے اعتدال پسند اور روایتی سینٹرسٹ اپروچ رکھنے والے ڈیوڈ کرولی پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا۔ دوسری جانب، ڈیوڈ کرولی کی کامیابی کو ان کے حامیوں نے عملیت پسند اور زمینی حقائق کے قریب تر سیاست کی جیت قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ووٹرز اس وقت ایسے رہنماؤں کو ترجیح دے رہے ہیں جو غیر حقیقی وعدوں کے بجائے مسائل کے عملی اور قابلِ عمل حل پیش کر سکیں۔ اس انتخاب کے بعد اب یہ بحث بھی شروع ہو چکی ہے کہ آیا آنے والے دنوں میں ڈیموکریٹک پارٹی اپنی سمت میں کوئی تبدیلی لائے گی یا نہیں۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اس انتخابی نتائج کے اثرات صرف وسکانسن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک بھر میں آئندہ ہونے والی سیاسی حکمت عملیوں پر بھی اس کے گہرے نقوش پڑیں گے۔ دونوں دھڑے، یعنی اعتدال پسند اور ترقی پسند، اب اپنی اپنی حکمت عملیوں کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ مستقبل کے مقابلوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا سکے اور پارٹی کے اندر ہم آہنگی کو برقرار رکھا جا سکے۔