World
لبنان میں سزائے موت کا خاتمہ اور عالمی صورتحال
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دنیا کا تین چوتھائی حصہ قانونی یا عملی طور پر سزائے موت کو ختم کر چکا ہے۔ لبنان کی جانب سے اس سزا کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر اس غیر انسانی عمل پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق دنیا کا تین چوتھائی حصہ اب سزائے موت کو قانوناً یا عملی طور پر ختم کر چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں لبنان کی جانب سے سزائے موت کے خاتمے کے تاریخی فیصلے کے بعد عالمی سطح پر اس سنگین سزا کے مستقبل پر ایک بار پھر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ زندگی کا حق ایک بنیادی انسانی حق ہے اور ریاستوں کو اس قسم کی سزاؤں سے گریز کرنا چاہیے۔
دوسری جانب دنیا کے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں اب بھی سنگین جرائم کے مرتکب افراد کے لیے سزائے موت کے قوانین کتابوں میں موجود ہیں یا ان پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ اگرچہ عالمی رجحان بتدریج اس سزا کے خاتمے کی طرف جا رہا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ، ایشیا اور امریکہ کے کچھ حصوں میں اب بھی اس کی حمایت یا نفاذ دیکھا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا ماننا ہے کہ سزائے موت کا نفاذ جرائم کی شرح میں کمی لانے میں مؤثر ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس سے انصاف کے نظام میں ناقابل تلافی غلطیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
لبنان کا یہ قدم انمستی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے سزائے موت کے مکمل عالمی خاتمے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے کے دیگر ممالک پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے عدالتی نظام پر نظر ثانی کریں اور بین الاقوامی معیارات کے مطابق انسانی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔ عالمی برادری اب اس بات کی متقاضی ہے کہ انصاف کے نظام کو زیادہ اصلاحی اور منصفانہ بنایا جائے تاکہ کسی بھی انسانی جان کا ضیاع روکا جا سکے۔