World
لبنان جنگ: ایک ریسکیو ورکر کی دردناک کہانی اور صدمہ
لبنان میں ایک ریسکیو اہلکار کی پیشہ ورانہ خدمات اس المناک واقعے کے گرد گھومتی ہیں جہاں اس نے اسرائیلی حملے میں اپنی بیٹی کو کھو دیا۔ یہ کہانی جنگ کے دوران انسانی جانیں بچانے والے افراد کی قربانیوں اور ان کے اندرونی درد کو اجاگر کرتی ہے۔
لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگ کے دوران انسانیت کی خدمت کرنے والے ریسکیو اہلکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کارکنوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جس کے لیے ریسکیو کا ہر مشن اب اس کی ذاتی زندگی کے سب سے بڑے صدمے سے جڑ چکا ہے۔ ایک اسرائیلی فضائی حملے میں اس کی بیٹی اس وقت جاں بحق ہو گئی جب حملہ اس کے اپنے ریسکیو اسٹیشن پر کیا گیا۔ اس دلخراش واقعے نے نہ صرف اس کے خاندان کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ اس کی پیشہ ورانہ زندگی کو بھی ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔
اپنے جگر گوشے کو اس طرح اچانک کھو دینے کے بعد کسی بھی عام انسان کے لیے معمول کی زندگی کی طرف لوٹنا یا اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ تاہم اس ریسکیو اہلکار نے اس المیے کو شکست دینے کے بجائے اسے دوسروں کی جانیں بچانے کے عزم میں بدل دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ اس کی زندگی کا سب سے مشکل مشن ہے، کیونکہ جب وہ ملبے میں دبے ہوئے لوگوں کو تلاش کرنے جاتا ہے تو اسے بار بار اپنی بیٹی کا چہرہ یاد آتا ہے۔ اس کے باوجود وہ روزانہ اپنے فرائض کے لیے نکلتا ہے تاکہ کسی اور باپ کو یہ صدمہ نہ اٹھانا پڑے۔
لبنان میں جاری حالیہ تنازعات نے عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ان امدادی کارکنوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ اس ریسکیو ورکر کی کہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جنگ کے دوران کس طرح عام انسان ناقابل یقین مصائب کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنے اندر ہمت اور حوصلہ برقرار رکھتے ہیں۔ اس کا یہ عزم پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے کہ تمام تر ذاتی نقصانات کے باوجود انسانی ہمدردی اور خدمت کا جذبہ کیسے اندھیرے میں روشنی کی کرن بن سکتا ہے۔