LIVE
Loading Breaking News...

سوزی لیمپلو گمشدگی کیس: چالیس سال بعد نئی تصاویر جاری

News Image
برطانوی تاریخ کے ایک انتہائی پراسرار گمشدگی کے واقعے کو چالیس سال گزر چکے ہیں اور تفتیش کاروں نے اس حوالے سے کچھ نایاب تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ کیس اب سے ایک سال بعد باضابطہ طور پر بند کیے جانے کا امکان ہے جس پر سکیورٹی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کی تاریخ میں گمشدگی کے سب سے زیادہ پراسرار اور پیچیدہ سمجھے جانے والے کیسز میں سے ایک، سوزی لیمپلو (Suzy Lamplugh) کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ اس واقعے کو پورے چالیس سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی اس کی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے۔ اس المناک سنگ میل پر تفتیش کاروں نے کچھ نایاب اور پہلے کبھی نہ دیکھی جانے والی تصاویر عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کی ہیں تاکہ اگر کسی کے پاس کوئی نئی معلومات ہوں تو وہ پولیس سے رابطہ کر سکے۔ یہ کیس آنے والے ایک سال کے اندر ہمیشہ کے لیے بند کیے جانے کا خدشہ ہے، جس نے اس معاملے پر کام کرنے والے سابق اور موجودہ تفتیش کاروں کو شدید ذہنی دباؤ اور اداسی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ سوزی لیمپلو کے اہل خانہ اور پولیس حکام طویل عرصے سے اس بات کے منتظر تھے کہ شاید کوئی ایسا سوراخ مل جائے جس سے اس کے انجام کا پتہ چل سکے۔ پولیس کے مطابق اس طویل عرصے کے دوران ہزاروں شواہد کا جائزہ لیا گیا اور کئی افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، مگر کوئی حتمی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ کیس بند کرنے کے فیصلے سے ان تمام لوگوں کو شدید مایوسی ہوئی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ اس معمہ کو حل کرنے کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس کیس سے جڑے افسران کا کہنا ہے کہ سوزی کی گمشدگی کا سایہ آج بھی ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی پر منڈلا رہا ہے کیونکہ وہ کسی انجام تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اب بھی اس نئے منظر عام پر آنے والی تصاویر یا پرانی کڑیوں پر سنجیدگی سے کام کیا جائے تو شاید تاریخ کے اس تاریک باب کو کچھ روشنی مل سکے۔ تاہم، وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور آئندہ ایک سال میں اس فائل کو حتمی طور پر بند کرنے کے انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں، جو انصاف کی تلاش میں سرگرداں خاندان کے لیے ایک اور بڑا صدمہ ہے۔