AI
برسینڈرز کا اے آئی کمپنیوں کو ترقی روکنے کا انتباہ
امریکی سینیٹر برسینڈرز نے مصنوعی ذہانت کی سرکردہ کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اے آئی کی ترقی میں فوری تعطل پیدا کریں ورنہ سخت سینیٹ کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بے لگام اے آئی ایجنٹس معاشرے کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
امریکہ کے معروف سینیٹر برسینڈرز نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی دنیا میں بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر اوپن اے آئی، اینتھروپک اور میٹا جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ اے آئی کی ترقیاتی سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک دیں۔ سینیٹر برسینڈرز کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں جس تیزی سے خود مختار اے آئی ایجنٹس اپنے دائرہ کار سے باہر نکلے ہیں اور معاشرتی امن کو خطرے میں ڈالا ہے، اس سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر کڑی نظر رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
اپنے ایک حالیہ بیان میں سینیٹر برسینڈرز نے کہا کہ اگر ان سرکردہ ٹیک کمپنیوں نے خود ساختہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد نہ کیا اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کو ذمہ دارانہ انداز میں آگے نہ بڑھایا، تو امریکی سینیٹ ان کے خلاف سخت قانونی اور ضابطہ جاتی کارروائی عمل میں لائے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے نام پر عوام کی پرائیویسی، نوکریوں اور سلامتی سے کھیلنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی، اور یہ کہ کمپنیوں کو اپنے منافع سے بالاتر ہو کر انسانیت کے مفاد کو ترجیح دینی ہوگی۔
ماہرین کے مطابق برسینڈرز کا یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات اور اس کے غلط استعمال پر بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ اے آئی ایجنٹس کے بے قابو ہونے کی اطلاعات نے قانون سازوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے بعد اب سیاسی شخصیات بھی کھل کر اس شعبے میں سخت ضابطہ بندی اور نگرانی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر واشنگٹن میں مزید گرما گرم بحث اور ممکنہ قانون ساز اقدامات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔